میرپور خاص تعلیمی بورڈ کے ناظم امتحانات کی محکمہ انٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتاری اور تحقیقات کے دوران انویسٹی گیشن کا دائرہ بورڈ سے بڑھ کر متعلقہ وزیر کے دفتر اور محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈ تک پھیل گیا ہے۔
محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے میرپور خاص بورڈ کے سابق ناظم امتحانات انور علیم خانزادہ کے حوالے سے ناجائز ذرارئع سے حاصل مراعات کی بندر بانٹ سمیت دیگر انکشافات پر بورڈ کے سابق چیئرمینز کے علاوہ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈ کے کچھ افسران اور وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈ کے پی اے کو تفتیش کے لیے طلب کرلیا ہے۔
سیکریٹری برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے انور علیم خانزادہ کی مختلف تعلیمی بورڈز میں ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے حوالے سے 7 روز میں ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے۔
محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے جن موجودہ اور حاضر افسران کو مختلف الزامات کے ساتھ طلبی کے خطوط بھیجے گئے ہیں۔ ان میں میرپور خاص بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ثمر رضا تالپور، سابق چیئرمین برکات علی حیدری، سابق چیئرمین ذوالفقار علی شاہ، ڈپٹی سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ ڈپارٹمنٹ فرحان اختر، مسٹر اعجاز اِن آفس سیکریٹری، محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈ اور پرسنل سیکریٹری برائے وزیر جامعات و بورڈز نعیم قریشی شامل ہیں جبکہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے ریکارڈ کے سلسلے میں سیکریٹری محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ سے ریکارڈ مانگا گیا ہے۔
اس سلسلے میں بورڈ افسران کو بھجوائے گئے نوٹسز میں آفیشل امور کی انجام دہی کے دوران ایک پر افسر پر ڈیڑھ کروڑ روپے، ایک اور پر 80 لاکھ روپے جبکہ مزید ایک پر 1 کروڑ 35 لاکھ روپے وصول کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں وضاحت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
ڈپٹی سیکریٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈ فرحان اختر کو لکھے گئے نوٹس سے محکمہ اینٹی کرپشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ انور علیم خانزادہ سے جاری تحقیقات میں ان کا نام بھی بورڈ میں پوسٹنگ اور انتظامی امور کے حوالے سے سامنے آیا ہے لہٰذا حقیقت جاننے کے لیے ان کا پیش ہونا بھی ضروری ہے لہٰذا وہ بھی تحقیقاتی افسر کے سامنے پیش ہوکر اس عرصے کے دوران بورڈ میں ٹرانسفر پوٹسنگ کے حوالے سے اپنے کردار کی وضاحت کریں۔
مزید برآں اِن آفس سیکریٹری مسٹر اعجاز کو دیے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اسی اثناء میں ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے سلسلے میں آفیشل خط و کتابت، سمریز، اور فائلز کو بھجوانے اور موصول کرنے کے حوالے سے یونیورسٹیز اینڈ بورڈ ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے رہے ہیں لہٰذا وہ بھی ریکارڈ کے ساتھ پیش ہوں۔
اسی طرح، وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے پرسنل سیکریٹری نعیم قریشی کو لکھے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے انور علیم خانزادہ سے کی گئی تحقیقات میں ان کا نام بھی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے سلسلے میں مراعات کے طور پر غیر قانونی ادائیگیوں کے سلسلے میں سامنے آیا ہے لہٰذا وہ بھی تحقیقاتی افسر کے سامنے پیش ہوں۔
علاوہ ازیں، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ عباس بلوچ کو موصولہ نوٹس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ انور علیم خانزادہ کس طرح سال 2016 سے تاحال میرپورخاص بورڈ، حیدرآباد بورڈ اور کراچ انٹرمیڈیٹ بورڈ میں اہم اسامیوں (سیکریٹری اور ناظم امتحانات) کے طور پر تعینات رہے۔ وہ 7 روز میں اس بات کا ریکارڈ اور قانونی و انتظامی جواز فراہم کریں کہ کیسے ایک ہی شخص مسلسل انتہائی اہم اسامیوں پر مسلسل تعینات رہا۔