لاہور: سفاک ماں کے ہاتھوں 3 بچوں کے قتل کا انکشاف، لرزہ خیز واردات کی تفتیش سی سی ڈی کے حوالے

سی سی ڈی اس کیس کو ماڈل کیس کے طور پر دیکھ رہی ہے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں


ویب ڈیسک April 25, 2026

اچھرہ کے علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے، جہاں ایک ماں کے ہاتھوں تین بچوں کے قتل کا انکشاف ہوا، کی تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حوالے کر دی گئی ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق سی سی ڈی اس کیس کو ماڈل کیس کے طور پر دیکھ رہی ہے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

اسی سلسلے میں سی سی ڈی کی ٹیم گزشتہ رات جھنگ گئی، جہاں سے ملزمہ کے مبینہ دوست شہریار کو شاملِ تفتیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ اور شہریار کے درمیان قریبی تعلق تھا اور دونوں شادی کے خواہشمند تھے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ شہریار کو بچوں کے قتل کے بارے میں پہلے سے علم تھا یا نہیں۔ اس حوالے سے مزید حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔

حکام کے مطابق کیس کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کی اصل وجوہات اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

دوسری جانب لاہور میں اپنے 3 بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمہ کو 5 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

لاہورکے علاقے اچھرہ میں ماں نے تین معصوم بچوں کا بے دردی سے قتل کیا اور پھر الزام اپنے سسرالیوں پر لگانے کی کوشش کی، تاہم سفاک ماں کا ڈرامہ تفتیش کے دوران بے نقاب ہوگیا۔

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ملزمہ کتنی پُر اعتماد ہے، جائے واردات پر کہتی ہے بلڈ پریشر کم ہو گیاہے، رات بھی کم ہوا تھا، ڈرپ لگوائی تھی، بچے زندہ تھے، گھر کو تالہ لگا کر باہر گئے، اندر کوئی نہیں آیا، بچے قتل کیسے ہو ئے، نہیں معلوم۔

پولیس کے مطابق ملزمہ کی ٹال مٹول زیادہ دیر نہ چلی اور جلد ہی اس نے جرم کا اعتراف کر لیا، اس نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر رمضان سے طلاق لیکر جھنگ کے شہر یار نامی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی، روزانہ فون پر رابط ہوتا تھا، موبائل ایپ کے ذریعے بھی پیسے منگواتی تھی لیکن شادی میں بچے سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔

پولیس حکام کے مطابق سی ڈی آر سے بھی حقائق سامنے آ گئے، ملزمہ 5 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے اور تفتیش جاری ہے۔