تائیوان نے مقامی فنکار ساکولیؤ پاوالاولجونگ سے ان کا قومی آرٹس ایوارڈ واپس لے لیا ہے۔ ملک کی جانب یہ اقدام اعلیٰ ترین عدالت کے فنکار کے خلاف جنسی زیادتی کے جرم میں سزا کو برقرار رکھنے پر اٹھایا گیا ہے۔
وزارتِ ثقافت اور نیشنل کلچر اینڈ آرٹس فاؤنڈیشن نے 17 اپریل کو اعلان کیا کہ فنکار کو 2018 میں دیا گیا قومی آرٹس ایوارڈ واپس لے لیا گیا ہے۔ آرٹ ایشیا پیسفک کے مطابق، انہیں اس کے ساتھ دی گئی 10 لاکھ تائیوانی ڈالر کی رقم بھی واپس کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ یکم اپریل کو تائیوان کی سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد کیا گیا، جس میں پاوالاولجونگ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے چار سال اور چھ ماہ قید کی سزا برقرار رکھی گئی۔ فوکس تائیوان کے مطابق، ان پر ’زبردستی جنسی تعلق‘ کا جرم ثابت ہوا تھا۔
یہ مقدمہ فروری 2021 کے ایک واقعے سے متعلق ہے، جس میں ایک خاتون شامل تھیں جو اس وقت ان کی فنّی شاگرد تھیں۔ پنگ تنگ ڈسٹرکٹ کورٹ نے جنوری 2025 میں پاوالاولجونگ کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خاتون کی جنسی خودمختاری کی خلاف ورزی کی اور انہیں شدید نفسیاتی نقصان پہنچایا۔
انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، لیکن ہائی کورٹ نے سزا برقرار رکھی، اور بالآخر سپریم کورٹ نے بھی اس ماہ ان کی آخری اپیل مسترد کر دی۔