ایران کی عدالت نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو عرفان کیانی کو سزائے موت سنائی تھی۔
ایرانی عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے “میزان” کے مطابق عرفان کیانی کو شہر اصفہان میں پھانسی دی گئی جب ملک کی اعلیٰ عدالت نے اس کی سزا برقرار رکھی۔
عرفان کیانی پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، آگ لگانے، سڑکیں بلاک کرنے اور مظاہروں کے دوران اسلحہ استعمال کرنے کے الزامات تھے۔
ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیانی اسرائیلی انٹیلی جنس کا ایجنٹ تھا تاہم اس الزام کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
واضح رہے کہ جنوری میں ہونے والے ان مظاہروں کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔