ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس تقریب پر حملے کو ‘مذہبی منافرت’ کا شاخسانہ قرار دے دیا

فائرنگ کے باوجود پروگرام جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن پروٹوکول کے مطابق ایسا ممکن نہیں تھا، امریکی صدر


ویب ڈیسک April 25, 2026
فوٹو: رائٹرز

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ شب وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کی ایسوسی ایشن کی تقریب میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کو مذہبی منافرت کا شاخسانہ قرار دے دیا۔

غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس فائرنگ کے بعد پہلی گفتگو کے دوران بتایا کہ حملہ آور کے دل میں کافی عرصے سے نفرت موجود تھی اور یہ مذہبی معاملہ تھا اور انتہائی عیسائیت مخالف معاملہ تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ واقعے کے باوجود پروگرام جاری رہے جس پر ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں ایسے کسی خطرے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں ایسے شخص سے نفرت کرتا ہوں جو ہمارے ملک کی سمت تبدیل کرے اور پروگرام اس لیے جاری رکھنا چاہتا تھا کیونکہ سب کو وہاں سے نکلنا پڑتا تو کیا صرف ایک پاگل آدمی کی وجہ سے ایسا کیا جاتا اورواقعی چاہتا تھا کہ تقریب جاری رہے تاہم پروٹوکول کے مطابق ایسا ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ کمرہ بند کر دیا گیا تھا مگر جیسے ہی دروازہ کھولا جاتا وہ سیکیورٹی کا حصار ٹوٹ جاتا اس لیے حکام نے درست فیصلہ کیا کہ وہ واپس وائٹ ہاؤس جا کر نیوز کانفرنس کریں اور کل رات تقریر میں بہت سخت باتیں کرنے والے تھے۔

امریکی صدر نے کہا کہ امید ہے کہ یہ ملتوی شدہ پروگرام جلد دوبارہ منعقد ہوسکے گا۔

رپورٹ کے مطابق مبینہ حملہ آور کے محرکات کے بارے میں ان سے دوبارہ پوچھا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشتبہ شخص کے دل میں کافی عرصے سے نفرت موجود تھی اور یہ ایک مذہبی معاملہ تھا اورعیسائیت کے خلاف سخت جذبات پر مبنی تھا۔

قبل ازیں امریکی پولیس نے کہا تھا کہ مبینہ حملہ آور کے محرکات ابھی تک معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کو زندگی کے آنے والے دور میں اس سے بڑے مسائل کا سامنا ہے، جب صدارت کا انتخاب لڑرہا تھا تومجھے اس عہدے کے خطرات کا مکمل اندازہ نہیں تھا لیکن اگر آپ متاثرکن صدرہیں تو آپ کوغیراہم صدرسے کہیں زیادہ خطرہ ہوگا۔