جنگ بندی میں توسیع کے بعد امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور کب ہوگا، اس بارے میں سردست فریقین کی جانب سے کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔ جنگ بندی میں توسیع کی بھی کوئی مدت متعین نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے جمعہ تک مذاکرات کے دوسرے دور کی امید ظاہر کی تھی تاہم یہ ممکن نہ ہو سکا۔
امریکا معاہدے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے پر مصر ہے جب کہ ایران کا موقف ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے خاتمے تک وہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی اور امریکی صدر کی جانب سے دی جانے والی بار بار کی دھمکیاں مذاکرات کے دوسرے دور کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم پاکستان امریکا اور ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے بڑھاتے ہوئے انھیں مذاکرات کی میز تک لانے کی سر توڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر چین، روس، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، فرانس اور دیگر ممالک اور عالمی رہنماؤں سے مسلسل بات چیت کے ذریعے امریکا ایران کے درمیان غلط فہمیوں اور کشیدگی و تناؤ کو کم کرکے مذاکرات کی راہ ہم وار کرنے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کی جا رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں جو تبصرے اور تجزیے شائع ہو رہے ہیں اس سے پوری دنیا میں پاکستان کا مقام بلند ہوتا نظر آ رہا ہے۔ برطانوی جریدے اکانومسٹ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ایران امریکا کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں مدد دی جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کے مرکز میں پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو قرار دیا جا رہا ہے جنھوں نے اس بحران کے دوران امریکی اور ایرانی قیادت سے براہ راست رابطے رکھے اور مذاکراتی عمل میں نہایت فعال کردار ادا کیا۔ بعض سینئر سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل کی تفصیلی شرکت اور مسلسل رابطوں نے پاکستان کو ایک موثر ثالث کے طور پر سامنے لانے میں مدد دی ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہوا ہے۔
ایک طرف پاکستان کے ثالثی کردار کی دنیا بھر میں پذیرائی کی جا رہی ہے تو دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا ایران جنگ کے حوالے سے صبح شام بدلتے ہوئے بیانات اور دھمکی آمیز لہجے کے باعث نہ صرف امریکا کے اندر بلکہ عالمی سطح پر ان کا امیج خراب ہو رہا ہے۔ کبھی وہ ایران کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، کبھی ایران کی پوری تہذیب مٹانے کے لیے خوف ناک بمباری کے بیانات دیتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ ایران پر ایٹمی حملہ نہیں کروں گا اور کبھی کہتے ہیں کہ اس کے بغیر ہی ہم نے ایران کو تباہ کر دیا ہے۔ ایک طرف مذاکرات، معاہدے اور امن کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف ایران کو دھمکیاں بھی لگاتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سیماب صفت طبیعت کے باعث ان کی مقبولیت کا گراف نیچے آ رہا ہے اور ان کی سیاسی پوزیشن بھی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ انھیں آئندہ وسط مدتی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اندرونی اختلافات اور بے اطمینانی کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ کا اتحاد تیزی سے سکڑنے لگا ہے اور امریکا میں رجیم چینج کے خطرات بڑھنے لگے ہیں۔ گارڈین کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت 33 فی صد تک محدود ہو گئی ہے۔ اکثریت ایران جنگ کی مخالف ہے، 70 فی صد امریکیوں نے معیشت کو خراب قرار دیا ہے جب کہ مہنگائی کی کارکردگی صرف 23 فی صد رہ گئی ہے۔
تارکین وطن کی ٹرمپ پالیسی کو ری پبلکن کے لیے خطرہ قرار دیا جارہا ہے۔ 77 فی صد لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے ملک کو غلط سمت میں ڈال دیا ہے۔ 61 فی صد نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے، فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی تعلقات میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں امریکی عوام کی رائے کے حوالے سے اب غیر مشروط حمایت سے ہٹ رہی ہے ۔ غزہ میں جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں نے امریکی رائے عامہ کو تبدیل کر دیا ہے جو ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسی کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی امریکا، اسرائیل اور روس کو انسانی حقوق کی پامالی کا شکاری قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مسیحی رہنما پوپ لیو سے بھی تعلقات میں بگاڑ پیدا کر لیا ہے۔ پوپ کہتے ہیں کہ یسوع امن کے بادشاہ ہیں انھیں جنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ یہ جنگ کا نہیں مذاکرات کا وقت ہے۔ ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ایسا پوپ پسند نہیں جو جنگی پالیسی پر اختلاف کرتا ہو۔ تقریباً دو امریکی ماہرین صدر ٹرمپ کو خود پسندی کا شکار قرار دے چکے ہیں۔
ایسی پریشان کن اور اضطرابی کیفیت میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مستقل جنگ اور کسی جامع امن معاہدے کا ہونا اور اس پر اخلاص نیت کے ساتھ امریکا اسرائیل کا عمل درآمد کرنا کسی معجزے سے کم نہ ہوگا۔ کیا پاکستان کی ثالثی سے یہ معجزہ رونما ہو سکتا ہے؟ یہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔