اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سوال پر کہ نظریاتی کونسل کو کس حد تک رائے دینے کا اختیار ہے ؟فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
دوران سماعت درخواست گزار ڈاکٹر اسلم خاکی نے استفسار کیا کہ کیا فیصلہ آج ہی سنا دیں گے ؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فیصلہ آج ہی ہو جائے گا ویسے بھی 24 گھنٹے رہ گئے ہمارے پاس۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی قانون بننے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے دے سکتی ہے تاکہ کوئی قانون قرآن و سنہ کے خلاف نا ہو۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ بھی وہی بات کر رہے ہیں جو ڈاکٹر اسلم خاکی کر رہے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ انجینئر محمد علی مرزا کا معاملہ ٹرائل کورٹ کے سامنے ہے اس پر کوئی رائے فریقین کے حقوق متاثر کر سکتی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کیس پر کوئی رائے نہیں دے رہی۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ ہمارے سامنے سوال ہے گورنرز ، صدر ، قومی اسمبلی ، سینیٹ یا صوبائی اسمبلیز کی جانب سے رائے مانگنے کے علاؤہ کیا کوئی رائے نظریاتی کونسل دے سکتی ہے ؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہم نے صرف نظریاتی کونسل اختیارات کے حوالے سے دیکھنا ہے، این سی سی آئی اے کو تو نظریاتی کونسل رائے نہیں دے سکت نا وہ قانون کے مطابق رائے نظریاتی کونسل سے لے سکتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ اس طرح تو پھر نظریاتی کونسل یہ رائے بھی دے دے کہ بلاسفیمی کیسز سے پہلے نظریاتی کونسل کے سے رائے لے لیا کریں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جس طرح اسلامی نظریاتی کونسل نے رائے دی ایسا ان کا اختیار قانون میں موجود نہیں ، نظریاتی کونسل والوں کو بھی کہا تھا کہ خود سے وہ اپنے اختیار کو دیکھ لیں گے تاکہ ہمیں فیصلہ نا کرنا پڑے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 28 ویں ترمیم میں یہ والی بات بھی شامل کر لیں تاکہ ان کا اختیار واضع ہو جائے، ایڈیشنل اٹارنی راشد حفیظ بھی عدالتی ریمارکس پر مسکرا دیے۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔