ایشیائی ممالک کے عسکری اخراجات میں حیران کُن حد تک سالانہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو 2009 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) کےشائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ایشیائی ممالک کے فوجی اخراجات 681 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں 8.1 فیصد زیادہ ہے اور 2009 کے بعد سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔
2025 میں مجموعی طور پر دنیا کے فوجی اخراجات 2.887 ٹریلین ڈالر تک پہنچے جو کہ 2024 کے مقابلے میں حقیقی معنوں میں 2.9 فیصد زیادہ ہے۔
فوجی اخراجات میں ابھی تک امریکا، چین اور روس 1.480 ٹریلین ڈالر یعنی عالمی سطح کے 51 فیصد کے مشترکہ اخراجات کے ساتھ سب سے زیادہ عسکری اخراجات والے ممالک ہیں۔
چین، جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا عسکری اخراجات والا ملک ہے، نے اپنے فوجی اخراجات میں 7.4 فیصد اضافہ کر کے 336 بلین ڈالر کر دیا ہے۔ یہ مسلسل 31 واں سال بہ سال اضافہ ہے کیونکہ چین نے اپنی عسکری جدید کاری کی مہم جاری رکھی ہے۔
اسی طرح بھارت جو 2025 میں دنیا کا پانچواں سب سے بڑا عسکری اخراجات والا ملک ہے، نے اپنے فوجی اخراجات میں 8.9 فیصد اضافہ کر کے 92.1 بلین ڈالر کر دیا ہے۔
بھارت کے دیرینہ حریف پاکستان کے فوجی اخراجات 11 فیصد بڑھ کر 11.9 بلین ڈالر ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب جاپان کے فوجی اخراجات 2025 میں 9.7 فیصد بڑھ کر 62.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئے جو کہ اس کی جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کے برابر ہے، جو 1958 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
تائیوان کی بات کی جائے تو اسُ کے عسکری اخراجات 14 فیصد اضافے کے ساتھ 18.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو اس کی جی ڈی پی کا 2.1 فیصد بنتا ہے۔ چینی پیپلز لبریشن آرمی کی طرف سے جزیرے کے گرد فوجی مشقوں میں شدت لانے کے پس منظر میں کم از کم 1988 کے بعد سے یہ سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔
ایشیا اور اوشیانا میں امریکی اتحادی جیسے آسٹریلیا، جاپان اور فلپائن بھی اپنی عسکتی قوت پر زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ نہ صرف دیرینہ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے بلکہ امریکی حمایت میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بھی۔