ایران کے وزیر خارجہ پاکستان کے دورے مکمل کر گئے ہیں۔ وہ پہلے پاکستان آئے۔ پھر اومان گئے اور پھر واپس پاکستان آئے۔ اب وہ ماسکو جا چکے ہیں۔ ایک سوال تو سب کے ذہن میں ہے کہ کیا کوئی بریک تھرو ہو گیا ہے۔ کیا ایران اور امریکا کسی امن معاہدہ پر پہنچ گئے ہیں۔ کیا امن معاہدہ کے حوالے سے کوئی پیش رفت ممکن ہو سکی ہے۔ بظاہر دیکھا جائے تو ابھی کوئی بریک تھرو نظر نہیں آرہا۔ یہی نظر آرہا ہے کہ ابھی امن معاہدہ کے امکانات کم ہیں اور ابھی مسائل کا کوئی ممکنہ حل نظر نہیں آرہا۔
لیکن اس کے ساتھ سیز فائر موجود ہے۔ امریکا بھی سیز فائر ختم نہیں کر رہا جب کہ ایران بھی سیز فائر ختم نہیں کر رہا۔ دونوں امن معاہدہ بھی نہیں کر رہے لیکن سیز فائر کو قائم بھی رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل بھی سیز فائر کی پابندی کر رہا ہے مگر لبنان میں سیز فائر ٹوٹ جاتا ہے اور غزہ میں سیز فائر ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن ایران امریکا سیز فائر پر قائم ہیں اور سب فریق اس کی مکمل پابندی کر رہے ہیں۔
کیا یہ حوصلہ افزا بات ہے یا نئی جنگی حکمت عملی ہے۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے۔ کیا سیز فائر کا مطلب ہے کہ جنگ ختم ہوگئی ہے یا جنگ نے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ جنگ کی نئی شکل بظاہر امن دکھا رہی ہے۔ لیکن امن نہیں ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکا کیوں سیز فائر چلا رہا ہے۔ ہم سب یہ بات تو کہتے اور لکھتے ہیں کہ امریکا جنگ سے تنگ ہے۔ لیکن وہ اپنی شرائط پر امن چاہتا ہے۔وہ اتنا تنگ نہیں کہ ایران کی شرائط پر امن مان جائے۔ امریکا سیز فائر بھی چلانا چاہتا ہے لیکن امن معاہدہ بھی اپنی شرائط پر چاہتا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ سیز فائر قائم ہے۔ نہ کوئی گولی چل رہی ہے نہ کوئی بمباری ہو رہی ہے۔ لیکن آبنائے ہرمز بند ہے۔ جنگ کے پہلے مرحلہ میں آبنائے ہرمز کو کھلوانا امریکی ترجیح تھا۔ لیکن اب امریکا بھی آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کوئی زور نہیں لگا رہا۔ امریکی موقف بھی یہی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز بند رکھنا چاہتا ہے تو بند رکھے۔
ہمیں کوئی غرض نہیں ۔ آبنائے ہر مز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ لیکن فی الحال امریکا ا س کو برداشت کر رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ایران کا جو خیال تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا جنگ بند کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ آج صورتحال بدل گئی ہے۔ آج ایران آبنائے ہر مز کھولنے کے لیے تیار نظر آرہا ہے۔ لیکن جواب میں امریکا نے ایران کا جو بحری محاصرہ کیا ہوا ہے امریکا وہ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی بحری محاصرہ اب امریکی ترجیح اور نئی جنگی حکمت عملی بن گیا ہے۔
امریکی بحری محاصرہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایران بھی اس محاصرہ کو ختم کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جواب میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیش کش بھی کر رہا ہے۔ لیکن اب امریکا نہیں مان رہا۔ یہ بحری محاصرہ ایران کو دنیا میں تیل بیچنے سے روک رہا ہے۔
ایران کی بحری ناکہ بندی اس کی تیل کی برآمدات کو صفر کر رہی ہے۔ یہ سادہ بات نہیں ہے۔ ہر ملک کے پاس تیل کو ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت ہوتی ہے۔ ایران کے پاس تیل کو ذخیرہ کرنے کی بھی محدود صلاحیت ہے۔ جب ایران کے اسٹوریج بھر جائیں گے تو تیل کے کنوؤں سے تیل نکالنا بند کرنا ہوگا۔ جب مزید ذخیرہ کرنے کے لیے اسٹوریج نہیں ہوگا تو مجبوراً تیل کے کنوؤں سے تیل نکالنا بندکرنا ہوگا۔
یہ ایران کے لیے بہت خطرناک ہوگا۔ تیل کے ماہرین بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک تیل کنوئیں سے تیل نکالنا بند کر دیا جائے تو دوبارہ اس تیل کے کنوئیں سے تیل حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کنواں بند ہو جاتا ہے۔ تیل کے کنویں سے تیل نکالنا بند کرنے کا مطلب تیل کا کنواں ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔
اس لیے امریکا کا خیال ہے کہ بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی تیل کی صنعت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ تیل کی تنصیبات پر بمباری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بحری ناکہ بندی مطلوبہ نتائج دے سکتی ہے۔ اس لیے ایران بھی کہہ رہا ہے کہ پہلے بحری ناکہ بندی ختم کی جائے۔ پہلے ایران کہتا تھا کہ مکمل امن تک آبنائے ہر مز کو کھولا نہیں جا سکتا۔اب امریکا کہتا ہے کہ مکمل امن تک بحری ناکہ بندی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کھیل بدل گیا ہے۔ ایران کا وائلڈ کارڈ اب اس کے لیے مشکل بن گیا ہے۔ ایران کھیل میں پھنس گیا ہے۔ بحری ناکہ بندی کے ماہرین اس کو ایک کامیاب جنگی حکمت عملی سمجھتے ہیں۔
اس کی ماضی میں کئی مثالیں ملتی ہیں۔ جنگ عظیم دوئم میں بھی بحری ناکہ بند ی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ اس لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایران کا یہ مطالبہ سمجھیں کہ پہلے بحری ناکہ بندی ختم کریں بتا رہا ہے کہ ایران اس کو ختم کروانا چاہتا ہے۔ ورنہ ایران نے اقتصادی پابندیاں ختم کروانے کے لیے کبھی اتنا زور نہیں لگایا ۔ یہ سنگین معاملہ ہے۔ اس سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے سیز فائر قائم ہے اور بحری ناکہ بندی جاری ہے۔ یہ جنگ کی نئی شکل ہے۔
اس کے حتمی نتائج تک یہ جاری رہے گی۔ ایران کے پاس فی الحال اس ناکہ بندی کو ختم کروانے کا کوئی حل نظر نہیں آرہا۔ روس چین اس ناکہ بندی کے لیے کوئی عملی قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ عمومی رائے تھی کہ چین اس بحری ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے کوئی مدد کرے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسی لیے اب ایران کو خود ہی یہ کام کرنا ہے۔ ناکہ بندی ایران کو بمباری سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔
موجودہ رجیم مزید مالی مشکلات کا شکار ہو رہی ہے۔ وقتی نقصان تو شائد برداشت کیا جا سکتا ہے لیکن حتمی اور لمبا نقصان اس رجیم کے لیے لمبی مشکلات پیدا کرے گا۔ اس وقت جنگ کے ماحول میں تو ایران میں یکجہتی نظر آرہی ہے، لوگ اس رجیم کے ساتھ جنگ میں کھڑے ہیں۔ لیکن جنگ کے خاتمے کے بعد لوگ مالی مسائل کا حل مانگیں گے۔ اس وقت اگر اس رجیم کے پاس وسائل نہ ہوئے تو مشکلات ہوں گی۔ تیل کے موجودہ کنویں شاہ ایران کے دور کے ہیں۔ نئے کنویں بہت کم بنائے گئے ہیں اقتصادی پابندیاں اس کی بڑی وجہ ہیں۔ تیل کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے جو ایران کے پاس نہیں رہی۔
اس لیے اگر موجودہ تیل کی ترسیل بھی ختم ہوجاتی ہے تو نیا مالی بحران ہوگا۔ جو جنگ کے بعد سر اٹھائے گا۔ اس لیے سمجھنے کی بات ہے کہ سیز فائر بھی ہے، جنگ بھی جاری ہے۔ ایران میں بھی زندگی نارمل ہونا شروع ہوگئی ہے۔ تہران کے ائرپورٹ نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی پروازیں شروع ہو گئی ہیں۔ بمباری نہیں ہے تو زندگی معمول پر آرہی ہے لیکن سب کچھ معمول پر نہیں ہے، خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بڑے نقصان کا خطرہ ہے۔ کل تک آبنائے ہرمز ایران کی جیت کا نشان تھا۔ آج بحری ناکہ بندی امریکا کی جیت کا نشان بنتی نظر آرہی ہے۔
اس لیے رائے یہی ہے کہ اب مفاہمت ایران کی بھی ضرورت ہے۔ لیکن بات فیس سیونگ کی ہے۔ لیکن شائد وہ موقع ایران کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ شطرنج کی جنگی بساط میں امریکا کی چال بھاری نظر آرہی ہے۔اس لیے سیز فائر قائم رہے گا۔ خطہ میں امن ہے، میزائل نہیں چل رہے، لیکن معاشی میزائل چل رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ نقصان صرف ایران کا نہیں۔ لیکن ایران کا زیادہ نقصان ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے پاس بھی وقت کم ہے۔ وہ جلدی معاہدہ چاہتے ہیں۔ جلدی جیت کا اعلان چاہتے ہیں۔لیکن شائد اب ایران بھی جنگ کو طول دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔