برطانوی بادشاہ چارلس سوم اہلیہ ملکہ کامیلا کے ہمراہ 4 روزہ سرکاری دورے پر امریکا پہنچے جہاں صدر ٹرمپ نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے شاہ چارلس سوم اور ملکہ کامیلا کی تقریب میں آمد پر فوجی بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے جبکہ 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔
اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے سلامی پیش کی اور شاہ چارلس ان کے ہمراہ اسٹیج پر موجود رہے جب کہ امریکی خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ بھی شاہی جوڑے کے استقبال کے لیے موجود تھیں۔
تقریب میں آمد پر شاہ چارلس اور ملکہ کامیلا نے امریکی کابینہ کے اہم اراکین سے مصافحہ کیا، جن میں نائب صدر اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ بعد ازاں ٹرمپ، میلانیا، شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا نے مشترکہ تصاویر بھی بنوائیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکیوں کے لیے سب سے قریبی دوست برطانیہ کے سوا کوئی اور ملک نہیں ہے۔
انھوں نے ماضی کی ایک علامتی مثال دیتے ہوئے آنجہانی ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں لگائے گئے درخت کا ذکر کیا اور کہا کہ جیسے وہ درخت وقت کے ساتھ مضبوط ہوا ہے ویسے ہی دونوں ممالک کے تعلقات بھی مضبوط ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے برطانوی قوم کے اعلیٰ کردار اور مشترکہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی آزادی کی جدوجہد صدیوں پر محیط مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھی۔
تقریب کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں بارش کے حوالے سے مذاق کرتے ہوئے اسے برطانوی موسم قرار دیا جس پر شرکا نے قہقہے لگائے۔
انھوں نے اپنے گزشتہ دورہ ونڈسر کاسل کو بھی یاد کیا اور شاہی خاندان کی میزبانی کو سراہا۔