کمر درد آج کے دور کی سب سے عام جسمانی شکایات میں سے ایک بن چکا ہے۔ چاہے دفتر میں طویل وقت بیٹھنا ہو یا غلط انداز میں وزن اٹھانا، یہ مسئلہ ہر عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق تقریباً ہر شخص اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر کمر درد کا شکار ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ مسئلہ ریڑھ کی ہڈی کے خم، جسے سکولیوسس کہا جاتا ہے، کی وجہ سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر اس حالت کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مستقل درد اور جسمانی ساخت میں خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔
کمر کا آگے کی طرف جھک جانا کبڑا پن کی علامت ہو سکتا ہے، جو نہ صرف جسمانی تکلیف کا باعث بنتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ صرف درد کش ادویات استعمال کرنے سے وقتی آرام تو مل جاتا ہے، مگر مسئلہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ درد کی اصل وجہ معلوم کی جائے اور اس کے مطابق علاج کیا جائے۔ باقاعدہ ورزش، درست انداز میں وزن اٹھانا اور احتیاطی تدابیر اپنانا کمر درد سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر درد مسلسل رہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔