امریکا نے مشرق وسطیٰ میں جدید ہائپر سونک میزائل سسٹم نصب کرنے پر غور شروع کر دیا

ڈارک ایگل کی ممکنہ رینج 1,700 میل سے زائد بتائی جاتی ہے


ویب ڈیسک April 30, 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر جدید ہائپرسونک میزائل سسٹم ڈارک ایگل کی تعیناتی کی تجویز دی ہے جس کا ہدف ایران کے اندر دور دراز علاقوں میں موجود میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانا بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کو حتمی شکل دی گئی تو یہ پہلا موقع ہوگا جب امریکا عملی طور پر ہائپرسونک ٹیکنالوجی میدان میں استعمال کرے گا۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈارک ایگل پروگرام کافی عرصے سے تاخیر کا شکار رہا ہے اور اسے تاحال مکمل طور پر آپریشنل قرار نہیں دیا گیا تاہم حالیہ پیش رفت اسے دوبارہ توجہ کا مرکز بنا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس اقدام کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران نے اپنے میزائل لانچرز کو ایسے مقامات پر منتقل کر دیا ہے جو روایتی پریسیژن اسٹرائیک میزائلز کی رینج سے باہر ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے کچھ میزائل 300 میل سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کے جواب میں امریکا جدید اور تیز رفتار نظام پر غور کر رہا ہے۔

ڈارک ایگل کی ممکنہ رینج 1,700 میل سے زائد بتائی جاتی ہے اور یہ آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیزی سے ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔

اس کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ دوران پرواز اپنا راستہ تبدیل کر سکتا ہے جس سے جدید دفاعی نظاموں کیلئے اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مالی اعتبار سے بھی یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ایک میزائل کی قیمت کروڑوں ڈالرز میں بتائی جا رہی ہے جبکہ مکمل بیٹری سسٹم کی لاگت اربوں ڈالر تک جا سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

یاد رہے کہ روس اور چین پہلے ہی ہائپرسونک ہتھیاروں کی دوڑ میں نمایاں پیش رفت کر چکے ہیں۔