پوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ایران اور یوکرین کی صورتحال سے متعلق ٹیلیفونک رابطہ

پوٹن نے جنگ کے پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی نقصان دہ نتائج کو اجاگر کیا


ویب ڈیسک April 30, 2026

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات کی اور مشرق وسطیٰ کی جنگ اور یوکرین تنازع پر تبادلہ خیال کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کریملن کے نمائندے یوری اوشاکوف نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ کال 90 منٹ سے زیادہ جاری رہی اور بے تکلف اور کاروباری جیسی تھی۔

اوشاکوف نے کہا کہ دونوں صدور نے ایران اور خلیج فارس کی صورتحال پر خصوصی توجہ دی۔ ولادیمیر پوٹن ایران کے ساتھ جنگ ​​بندی میں توسیع کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو درست سمجھتے ہیں، کیونکہ اس سے مذاکرات کو ایک اور موقع ملے گا اور مجموعی طور پر صورت حال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

اوشاکوف نے کہا کہ پوٹن نے نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسیوں کے لیے، بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی نقصان دہ نتائج کو بھی اجاگر کیا، اگر امریکا اور اسرائیل ایک بار پھر فوجی کارروائی کرتے ہیں۔

پوٹن نے ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو میں مزید کہا کہ روس مشرق وسطیٰ کی جنگ پر سفارتی کوششوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔