تین ججوں کی ٹرانسفر کا معاملہ اور آئینی حقائق

جیوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت ، اور جسٹس محسن اختر کیانی کے تبادلو ں کی منظوری دے دی ہے۔



جیوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت ، اور جسٹس محسن اختر کیانی کے تبادلو ں کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن اس ضمن میں ایک سوال بہت اٹھایا جا رہا ہے کہ محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی درخواست پر تبادلوں کے لیے یہ اجلاس بلانے سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد کمیشن کے ارکان نے ایک ریکوزیشن کے ذریعے یہ اجلاس بلوایا اور تبادلوں کی منظوری اکثریت کے ووٹوں سے حاصل کی۔ اب سوال یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس کی اپوزیشن کے باوجود کیوں بلایا گیا؟

 یہی توعدلیہ کی آزادی کا اصل تصور ہے۔ پہلے چیف جسٹس کے پاس خدائی اختیارات تھے۔ اکیلا چیف جسٹس پوری عدلیہ کا مالک تھا۔ وہ ہم خیال بنچ بنائے، وہ جس کو چاہے پروموٹ کرے وہ جس کو چاہے نامزد کرے۔ پھر آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ میں فرد واحد کی بادشاہی کو اجتماعی دانش کے حوالے کر دیا گیا۔

میری نظر میں یہ کوئی بری بات نہیں کیونکہ اس ملک نے مضبوط چیف جسٹس صاحبان کی جیوڈیشل ایکٹوزم، فیورٹزم ، سوموٹو کی بھر مار دیکھی ہے۔ ہم خیال بنچز دیکھے ہیں۔ اس لیے ایسا نہیں کہ جب چیف جسٹس کل اختیار میں تھے تو عدلیہ آزاد تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ آئین کی روح سے جیوڈیشل کمیشن میں کسی کے پاس ویٹو پاور نہیں ہوتی حتی کہ چیف جسٹس کے پاس بھی۔ آرٹیکل A-175 کے تحت کمیشن کی کارروائی اجتماعی ذمے داری میں آتی ہے۔ اگر کوئی ایک رکن اس کو بلاک کرے گا تو پورا سسٹم تباہ ہو جائے گا۔اس لیے اب پہلے والی صورتحال نہیں ہے۔ جیوڈیشل کمیشن کے ایک تہائی ارکان جیوڈیشل کمیشن کا اجلاس کسی بھی ایجنڈے پر بلوا سکتے ہیں اور وہاں اکثریت سے فیصلے ہو سکتے ہیں۔ یہ عین جمہوری ہے۔ پہلے والا سسٹم زیادہ غیر جمہوری تھا۔ جس کی آج وکالت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہندوستان سمیت کئی ممالک میں بھی اس طرح کے کمیشن کی کارروائی اجتماعی دانش سے چلائی جاتی ہے۔ جہاں اختلافات کے باوجود کوئی ایک فریق سسٹم کو مفلوج نہیں کر سکتا۔اس معاملے پر بھی چیف جسٹس نے آئینی طریقہ اپنایا جس میں انھوں نے اختلاف کے باوجود میٹنگ میں شمولیت اختیار کی اور اپنا اختلافی نوٹ لگایا جو کہ آئین کی روح کے عین مطابق ہے۔

 ایک اور سوال ہے کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ججوں کے تبادلے سزا کے طور پر کیے گئے ہیں۔ ججوں کو سزا کیوں دی گئی ہے۔ ایک ٹرانسفر کو سزا کے طور پر اسی وقت لیا جا سکتا ہے جب کسی جج کو آرٹیکل 209 کے تحت چارج شیٹ کرنے کے بعد تبدیل کیا جائے۔ یہاں ایسی کوئی صورتحال نہیں تھی۔ نہ کوئی چارج شیٹ بنی نہ انکوائری ہوئی نہ سزا دی گئی۔ اس لیے قانونی اور آئینی طور پر اس کو معمول کا تبادلہ ہی دیکھا جائے گا۔ اس سے پہلے بھی کئی ججز کے تبادلے ہوئے ہیں تب تو سزا کا تاثر نہیں دیا گیا۔ ہندوستان میں بھی ٹرانسفرز آرٹیکل 222 کے تحت ہوتی ہیں۔اگر غور سے مشاہدہ کریں تو پاکستان میں ہائیکورٹ کے ججز کی بنچز میں ٹرانسفر 1949 سے رائج ہیں۔

اب سوال یہ بھی ہے کہ کیا ان تبادلوں سے عدلیہ کمزور ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں ایسا نہیں ہے۔ بلکہ عدلیہ مستحکم ہوئی ہے۔ کیا آئین کے آرٹیکل 200 کے تناظر میں ججوں کی ٹرانسفر کی شق پر عملدرآمد نہ کرنا آئین کی روح سے غداری نہیں؟ اگر یہ جج ساری زندگی ایک ہی ہائیکورٹ میں گزاریں تو کیا یہ مقامی دباؤ اور اپنے تعلقات سے انصاف پر مبنی فیصلے کر سکتے ہیں؟تبادلے نظام کو استحکام دیتے ہیں یا عدم استحکام ، یہ ایک بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن کسی خاص جج کے تبادلے کو اس تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔

جج چاہے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو یا بلوچستان ہائی کورٹ میں۔ اس کا کام عام آدمی کو انصاف دینا ہے۔ اس کی ترجیح بھی عام آدمی ہونا چاہیے۔ کسی خاص کا مقدمہ سننے کی خواہش عدلیہ کی آزادی نہیں۔ اس لیے میری رائے میں نہ تو عدلیہ کمزور ہوئی ہے نہ کوئی عدم استحکام ہی ہوا ہے۔ ان ججز کے مستعفیٰ ہونے کا اختیار موجود ہے۔ ان کو تبادلے نہیں منظور یہ استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ وہ ان کا قانونی اور آئینی حق ہے۔

یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ججوں کی ٹرانسفر سے پہلے شنوائی نہیں ہوئی، ان کو اپنا موقف بیان کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہ تبادلے ہیں کوئی انکوائری نہیں کہ سنا جائے۔ دنیا میں کہاں تبادلے سے پہلے سنا جاتا ہے اور رائے لی جاتی ہے۔ یہ جیوڈیشل کمیشن کا اختیار ہے۔ سنا تب جاتا ہے جب کوئی حق چھینا جا رہا ہو۔ یہ سب معزز جج تھے اور ہیں۔ یہ کہاں ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کا جج کم معزز ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج زیادہ معزز ہے۔وہی تنخواہ وہی مراعات، سب کچھ وہی ہے۔ وہی پاکستان کے عوام کے مقدمات۔ شور اور احتجاج کیا ہے، سمجھ سے باہر ہے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا تبادلوں کا یہ فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ایک سیاسی بیانیہ ہے جو تحریک انصاف بنا رہی ہے۔ اس کی کوئی آئینی بنیاد نہیں۔ کیونکہ اس فیصلے کے پس پشت آئین کی عملداری تھی۔اس کو مخصوص وقت اور سیاسی وابستگی کے تناظر میں مخصوص رنگ دینا مناسب نہیں۔ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ان ججز کی بے جا حمائت ان کی غیر جانبداری کو متنازعہ بنا رہی ہے۔ جو ان جج صاحبان کے لیے بھی ٹھیک نہیں۔ یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ ان ججز کو پہلے لایا گیا اور پھر ان کو ہٹایا گیا۔ ججز کی ٹرانسفر ادارہ جاتی مینجمنٹ کے زمرے میں آتی ہے جس کے تحت ادارہ جاتی مفاد کسی کے ذاتی مفاد سے بالاتر ہے۔

میں سمجھتا ہوں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ روٹین کے تبادلے ہیں۔ اگر یہ ایک خاص سوچ یا جماعت کے حامی سمجھے جاتے ہیں تو پھر ایک خاص سوچ کے ججوں کا ایک ہائی کورٹ پر غلبہ کیسے جائز ہے۔ یہ دوسری سوچ والوں کے ساتھ زیادتی نہیں کہ ایک سیاسی سوچ کے جج اکٹھے ہو کر ایک ہائی کورٹ کو یرغمال بنا لیں اور نظام حکومت مفلوج کر دیں۔ پھر بھی کسی جج کو آرٹیکل 200 کے تحت ہٹایا نہیں گیا۔ کسی جج کو سزا نہیں دی گئی ہے۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ ان ججوں نے مداخلت پر خط لکھا تھا۔ اس لیے تبدیل کیے گئے ہیں۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ۔ وہ خط سیاسی تھا۔ ان ججز کے پاس وہ تمام اختیارات موجود ہیں اور تھے جو مداخلت کو روک سکتے ہیں، جو مداخلت کرنے والے کو سزا دے سکتے ہیں۔ ان کو اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہیے تھے۔ انھوں نے عمر عطا بندیال کے دور کے واقعات کا خط قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں لکھا کیوں۔ کیا یہ عمر عطا بندیال کے ہم خیال تھے اور قاضی فائز کو خط کے ذریعے متنازعہ بنا رہے تھے۔ میری ناقص رائے میں وہ خط ان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی تھا۔ لیکن نہیں کی گئی۔ ان سے پوچھا جائے انھوں نے اپنے اختیارات خود فوری کیوں نہیں استعمال کیے۔ یہ کیوں خط کے پیچھے چھپ کر بیانیہ بناتے رہے۔ یہ میری رائے ہے۔ آپ اختلاف کر سکتے ہیں۔