عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکارہ برٹنی اسپیئرز ایک بار پھر قانونی مشکلات کا شکار ہوگئی ہیں، جہاں انہیں جنوبی کیلیفورنیا میں مبینہ طور پر نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے الزام میں باقاعدہ طور پر فرد جرم کا سامنا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینچورا کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس نے 30 اپریل کو برٹنی اسپیئرز کے خلاف الکحل اور منشیات کے زیر اثر گاڑی چلانے کے جرم میں ایک معمولی نوعیت کا مقدمہ درج کیا۔ استغاثہ کے مطابق گلوکارہ نے مبینہ طور پر الکحل اور منشیات کے اثر میں گاڑی چلائی، جس کے بعد ان کی 4 مئی کو وینچورا کاؤنٹی سپیریئر کورٹ میں پیشی طے کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق چونکہ مقدمہ نسبتاً کم درجے کا ہے، اس لیے امکان ہے کہ ان کے وکیل عدالت میں ان کی نمائندگی کریں گے اور ذاتی حاضری ضروری نہیں ہوگی۔ پراسیکیوشن حکام کا کہنا ہے کہ برٹنی کو ’ویٹ ریک لیس‘ یعنی الکحل یا منشیات کے اثر میں خطرناک ڈرائیونگ کے اعتراف کا موقع دیا جاسکتا ہے، جو ایسے ملزمان کے لیے معمول کی قانونی رعایت سمجھی جاتی ہے جن کا ماضی میں ڈی یو آئی ریکارڈ نہ ہو، خون میں الکحل کی مقدار کم ہو اور کسی حادثے یا جانی نقصان کا واقعہ پیش نہ آیا ہو۔
اگر یہ قانونی رعایت منظور ہوئی تو برٹنی اسپیئرز کو 12 ماہ کی پروبیشن، لازمی ڈی یو آئی کلاسز اور ریاستی جرمانے ادا کرنا ہوں گے۔
یاد رہے کہ 4 مارچ کو کیلیفورنیا ہائی وے پٹرول نے برٹنی کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ وینچورا کاؤنٹی ہائی وے پر اپنی بلیک بی ایم ڈبلیو تیز رفتاری اور غیر محتاط انداز میں چلاتی پائی گئیں۔ پولیس کے مطابق گلوکارہ میں واضح طور پر نشے کی علامات موجود تھیں، جس کے بعد انہیں فیلڈ سوبرائٹی ٹیسٹ سے بھی گزارا گیا۔
اس واقعے کے چند ہفتے بعد، 12 اپریل کو ان کے نمائندے نے تصدیق کی تھی کہ 44 سالہ گلوکارہ نے رضاکارانہ طور پر علاج کے لیے بحالی مرکز میں داخلہ لیا۔ برٹنی کے ترجمان نے گرفتاری کو ’افسوسناک اور ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی میں ضروری تبدیلیوں کی جانب پہلا اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلوکارہ کو اس مشکل دور میں خاندان، قریبی عزیزوں اور اپنے بچوں کی حمایت حاصل رہے گی تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر سمت دے سکیں۔