لاہور:
پنجاب موٹر گاڑیاں (چوتھی ترمیم) بل 21 اپریل کو ایوان سے منظور ہو چکا، تاہم ٹریفک جرمانوں میں کمی گورنر پنجاب کے دستخط کی منتظر ہے۔
اسمبلی ذرائع کے مطابق صوبائی موٹر گاڑیاں (چوتھی ترمیم) بل گزشتہ منگل گورنر پنجاب کو ارسال کیا گیا، ترامیم کی حتمی توثیق گورنر پنجاب دیں گے، تاحال دستخط نا ہو سکے۔
بل کے متن کے مطابق موٹر سائیکل کے چند چالان 2 ہزار سے کم کر کے 1 ہزار روپے ہوں گے، موٹر سائیکل کا زیادہ سے زیادہ چالان اب 2 ہزار روپے کا ہوگا۔ رکشے کا چالان چند خلاف ورزیوں پر 3 سے 1 ہزار کر دیا جبکہ سنگین خلاف ورزی پر 2 ہزار جرمانہ ہوگا۔
اسی طرح کار اور جیپ کا چالان چند خلاف ورزیوں پر 5 ہزار سے کم کر کے 2 ہزار روپے کر دیا گیا، تاہم ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر گاڑیوں کا 5 ہزار جرمانہ برقرار رہے گا۔ موٹر سائیکل، رکشے اور کار میں اوور سپیڈنگ کے جرمانوں کو برقرار رکھا گیا۔
بل کے متن کے مطابق 2 ہزار سی سی اور دیگر لگژری وہیکلز کا جرمانہ 20 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار کر دیا گیا، 2 ہزار سی سی وہیکلز کا کم سے کم جرمانہ 2 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار ہوگا۔ مزدا، کوسٹرز، چھوٹی مسافر وین لائٹ وہیکلز کا جرمانہ 20 ہزار سے 7 ہزار کر دیا گیا۔ ٹرک، بسوں اور دیگر ہیوی وہیکلز کا زیادہ سے زیادہ جرمانہ 20 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار کر دیا گیا۔
سیکریٹری پارلیمانی امور پنجاب اسمبلی خالد محمود کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی جرمانوں کا ترمیمی بل گورنر پنجاب کو ارسال کر چکی ہے۔