سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کے رکن آصف کٹو کی قتل کے مقدمے میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
پراسیکیوشن کے وکیل کے مطابق مجرم پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چار پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا اور لیبارٹری رپورٹ مثبت ہے۔
وکیلِ مجرم نے مؤقف اختیار کیا کہ مجرم کا حلیہ اور نام ایف آئی آر سے مطابقت نہیں رکھتے اور اسے جیل سے اٹھا کر گرفتار ظاہر کیا گیا، جبکہ وہ ایم کیو ایم کا کارکن تھا۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر سزائے موت برقرار نہیں رکھی جا سکتی، لہٰذا کمزور شواہد کے باعث سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
وکیلِ مجرم کے مطابق آصف کٹو دیگر مقدمات میں بری ہو چکا ہے، جبکہ اس پر 2015 میں کراچی چورنگی میں چار پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام تھا۔