اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو پراجیکٹ کی لیز منسوخی آرڈر کے خلاف بی این پی کمپنی کی جانب سے دائر درخواست خارج کر دی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ محمد سرفراز ڈوگر نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے سی ڈی اے کی لیز منسوخی آرڈر کو تکنیکی نکتے پر چیلنج کیا گیا جو 30 دن کے نوٹس کی مدت متعلق ہے، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق لیز منسوخی کا نوٹس 7 فروری جبکہ لیز منسوخی آرڈر 8 مارچ 2023 کو جاری ہوا، درخواست گزار کے مطابق فروری 28 دن کا ہونے کی وجہ سے 30 دن کے نوٹس پیریڈ کی مدت مکمل ہی نہیں ہوئی۔
عدالت نے لکھا کہ یہ مؤقف قانونی طور پر غلط اور منصفانہ اصولوں کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہے خصوصاً اس تناظر میں کہ درخواست گزار کی جانب سے مسلسل اور تسلیم شدہ خلاف ورزی موجود ہے، درخواست گزار نے نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے رجسٹرار کے پاس 50 کروڑ روپے کا چیک جمع کرانے کی پیشکش کی۔
عدالت نے کہا کہ تسلیم شدہ مالی نادہندگی کے تناظر میں اس نوعیت کی پیشکش نہایت غیر متناسب اور قانونی طور پر بے معنی ہے، ریکارڈ کے مطابق صرف 2022 کی قسط کے حوالے سے تسلیم شدہ نادہندگی 2.916 ارب روپے ہے اور 50 کروڑ روپے کی مشروط یا علامتی ادائیگی نادہندگی کے نتائج کو ختم نہیں کرسکتی، نادہندہ ایک جزوی رقم جمع کروا کر اربوں روپے کی مالیت کے منصوبے پر دوبارہ کنٹرول یا قبضہ حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت اجازت نہیں دے سکتی کہ ایک نادہندہ فریق اپنی شرائط پر تجارتی ذمہ داریوں کی ازسرنو تشکیل دے، جزوی ادائیگی کے ذریعے مسلسل خلاف ورزی کے قانونی نتائج کو غیر مؤثر بنانے کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی، مجوزہ ادائیگی ایک حقیقی اصلاحی اقدام سے زیادہ ایک عارضی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کا الاٹیز کے حقوق پر انحصار دراصل عوامی ہمدردی حاصل کر کے اپنی نادہندگی کو چھپانے کی کوشش ہے، سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں الاٹیز کی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے لیے ریگولرائزیشن کا طریقہ کار بھی فراہم کیا تھا، تھرڈ پارٹی یعنی الاٹیز کی ریگولرائزیشن کا طریقہ کار درخواست گزار کی جانب سے شرائط کی تکمیل سے مشروط تھا، واجبات کی عدم ادائیگی سے درخواست گزار نے نا صرف ریاست بلکہ الاٹیز کے مفادات کو بھی نقصان پہنچایا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار خود نادہندہ ہونے کے باعث اس مؤقف سے فائدہ اٹھانے کا حق نہیں رکھتا، الاٹیز نے موقف اختیار کیا کہ وہ نیک نیتی سے قیمت ادا کر کے خریداری کرنے والے ہیں جنہیں کسی خرابی کا علم نہیں تھا۔ یہ دلیل آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اختیار کردہ دائرہ اختیار میں قابلِ قبول نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے شواہد درکار ہیں اور سب لیز ہولڈرز اس معاملے کو مجاز عدالت کے سامنے اٹھا سکتے ہیں۔ ان کے پاس درخواست گزار کے خلاف بھی مجاز عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا حق موجود ہے۔ عدالت توقع کرتی ہے کہ سی ڈی اے اور الاٹیز باہمی رضامندی سے کسی قابلِ قبول حل تک پہنچنے کی سنجیدہ کوششیں کریں گے۔
دریں اثنا کابینہ سیکرٹریٹ اسلام آباد نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی بابت قائم کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آج منعقد ہوا، اجلاس میں سی ڈی اے سے بریفنگ لی گئی۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کل کے اجلاس میں بھی سی ڈی اے سے مزید حقائق جانے گی، سی ڈی کے بعد رہائشیوں کو بھی مقرر کردہ نمائندہ/نمائندگان کے ذریعے سنوائی کا موقع دیا جائے گا۔