نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام ’واضح طور پر سن لیا ہے‘ اور اب وہ دفاعی اخراجات بڑھانے اور اپنی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں۔
مارک روٹے کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے جرمنی سے اپنے تقریباً 5 ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا، جس نے یورپی اتحادیوں میں تشویش پیدا کر دی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ نیٹو اتحادیوں کی جانب سے دفاعی ذمہ داریوں میں کم کردار پر ناراضی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا اور اس کے اتحادی اسرائیل کی مناسب حمایت نہیں کر رہے۔
یورپی رہنماؤں نے اس صورتحال کے بعد دفاعی پالیسیوں میں تبدیلی کے اشارے دیے ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالس نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک حیران کن پیش رفت ہے، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ کو نیٹو میں اپنا کردار مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
ادھر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ یورپ اپنی سیکیورٹی کے لیے خود ذمہ داری اٹھانے کی طرف بڑھ رہا ہے اور دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے جبکہ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے بھی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب اسپین نے امریکا کو اپنی فضائی حدود اور اڈوں سے ایران پر حملے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے اس جنگ کو غیر ضروری اور خطرناک فوجی مداخلت قرار دیا ہے، جس پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دی۔
رپورٹس کے مطابق یورپی ممالک اب خلیجی خطے میں ممکنہ صورتحال کے پیش نظر اپنی بحری اور دفاعی تنصیبات کو مضبوط بنانے پر غور کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک انہوں نے براہ راست کسی فوجی کارروائی میں حصہ لینے کا اعلان نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نیٹو کے اندر اختلافات اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے دفاعی توازن کی عکاسی کرتی ہے، جہاں یورپ بتدریج اپنی سیکیورٹی پالیسیوں میں خود مختاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔