اگر آپ دن بھر بار بار جمائیاں لیتے ہیں، مسلسل تھکن محسوس کرتے ہیں یا دفتر میں بیدار رہنے کے لیے بار بار کافی پینے پر مجبور ہوتے ہیں تو یہ صرف مصروف روٹین کا نتیجہ نہیں بلکہ نیند کی شدید کمی کی واضح علامت ہو سکتی ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس کیفیت کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا جسمانی، ذہنی اور سماجی سطح پر سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کی وارننگ: نیند کی کمی ایک سنجیدہ طبی مسئلہ
امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ جمائیاں لینا یا دن بھر غنودگی محسوس کرنا ناکافی نیند کی اہم نشانی ہے۔ دنیا بھر کی 25 سے زائد طبی تنظیموں نے بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیند کی کمی کو سنجیدگی سے لینا ناگزیر ہے۔
اکیڈمی کے صدر ڈاکٹر ایرک اولسن کے مطابق نیند کی کمی نہ صرف فرد کی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی خطرات پیدا کرتی ہے، جیسے غنودگی میں ڈرائیونگ کے باعث حادثات، کام کے دوران غلطیاں اور دیگر طبی پیچیدگیاں۔
کن بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند نہ لینے سے متعدد سنگین امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جن میں ذیابیطس، دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، فالج، گردوں کی بیماریاں اور ڈپریشن وغیرہ شامل ہیں۔
طبی رپورٹس کے مطابق امریکا میں تقریباً ایک تہائی بالغ افراد روزانہ شدید غنودگی محسوس کرنے کی شکایت کرتے ہیں۔
مائیکرو سلیپ: چند سیکنڈ کی نیند بھی جان لیوا
نیند کے ماہرین کے مطابق مسلسل نیند کی کمی دماغ کو مختصر دورانیے کے لیے ’’مائیکرو سلیپ‘‘ میں لے جا سکتی ہے، جس میں انسان چند سیکنڈ کے لیے بے اختیار سو جاتا ہے۔ اگر یہ کیفیت گاڑی چلاتے یا حساس مشینری استعمال کرتے ہوئے پیدا ہو تو حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
نیند متاثر کرنے والی عام وجوہات
ماہرین کے مطابق نیند کی خرابی کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سلیپ ایپنیا، بے خوابی، ریسٹ لیس لیگ سنڈروم، دائمی درد، زیادہ کیفین، شراب نوشی، منشیات، ورزش کی کمی، شور یا غیر آرام دہ ماحول شامل ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شراب یا بعض نشہ آور اشیا نیند بہتر بناتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ نیند کے معیار کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔
احتیاطی مشورہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دن بھر غنودگی، بار بار جمائیاں یا مسلسل تھکن محسوس ہو تو فوری طور پر نیند کے معیار کا جائزہ لینا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر طبی مشورہ ضرور حاصل کرنا چاہیے۔