چارسدہ کی معروف مذہبی شخصیت، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے، صدر اور وزیراعظم نے قتل پر افسوس کا اظہار کیا، تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بنادی گئی، جے یو آئی نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا محمد ادریس پر فائرنگ کا واقعہ ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں پیش آیا۔ واقعے میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، مولانا محمد ادریس دورہ حدیث درس دینے کے لیے دارالعلوم اتمانزئی جارہے تھے کہ یہ واقعہ رونما ہوا، ان کی لاش ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دی گئی جہاں اطلاع ملتے ہی ان کے ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند پہنچ گئے۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی مردان میں درج کر لیا گیا،
شہید مولانا محمد ادریس کی نماز جنازہ ترنگزئی چارسدہ میں ادا کر دی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جس کے بعد شہید کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی، واقعہ کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے، فائرنگ کے واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے، تفتیشی ٹیموں نے موقع پر موجود سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کرلی ہیں اور دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے ملزمان کی فوری گرفتاری کیلئے احکامات جاری کردیے اور کہا ہے کہ ملوث عناصر کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔
جے یو آئی کے رہنما شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کا شمار نامور عالم دین میں ہوتا ہے، شہید مولانا محمد ادریس جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، وہ شہید مولانا حسن جان کے داماد تھے، سال 2007ء میں مولانا حسن جان کو بھی فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا تھا۔
جے یو آئی کا احتجاج کا اعلان
مولانا محمد ادریس کے قتل کے خلاف جمیعت علماء اسلام نے کل ملک بھرمیں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ جے یو آئی کی جانب سے کل صوبہ بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
قاتلوں کی گرفتاری کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل
مولانا ادریس شہید کے ہائی پروفائل قتل کیس کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دے دی گئی، پراسیکیوشن ٹیم پولیس کی تفتیشی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہے گی اور اس ضمن میں روزانہ کی بنیاد پر پروگریس رپورٹ بھی تیار کی جائے گی۔
ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر چارسدہ کے اعلامیے کے مطابق عالم دین محمد ادریس شہید کے کیس کی تحقیقاتی ٹیم میں سینئر پبلک پراسیکیوٹر محمد ارشاد، لاء آفیسر سکندر زمان اور اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر شاہد عادل شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق پراسیکیوشن ٹیم تھانہ سی ٹی ڈی مردان میں درج ایف آئی آر نمبر 36 کے تحت کیس کی تفتیش کی نگرانی کرے گی۔
نوٹی فکیشن میں ممبران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پولیس کی تفتیشی ٹیموں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی برقرار رکھیں اور کیس کی روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ دفتر کو ارسال کریں۔
پراسیکیوشن کے مطابق اس ٹیم کی تشکیل کا مقصد مولانا محمد ادریس شہید قتل کیس کی شفاف اور قانونی پیروی کو یقینی بنانا ہے۔
مذمتی قرارداد خیبرپختونخوا اسمبلی میں جمع
خیبرپختونخوا اسمبلی میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے قتل کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد خیبرپختونخوا اسمبلی میں جمع کرادی گئی۔ قرارداد جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے جمع کرائی، قرارداد میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے قتل کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا گیا کے قتل میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے اور انھیں قانون کے مطابق سزا کی دی جائے قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔
صدر اور وزیر اعظم کا اظہار افسوس
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی قاتلانہ حملے میں شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایوان صدر سے جاری بیان میں صدرِ مملکت نے کہا کہ ایسے بزدلانہ دہشت گرد حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے، وطنِ عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی عزم مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی، ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا، انہوں نے شہید کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی، اللّہ تعالیٰ سے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی، صدرِ مملکت کی واقعے میں زخمی پولیس اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی مولانا محمد ادریس کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کیلئے صبر کی دعا کی۔ وزیر اعظم نے واقعے میں زخمی پولیس اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا اور وزیر اعلیٰ کی مولانا ادریس پر قاتلانہ حملے کی مذمت
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مولانا ادریس کی قاتلانہ حملہ میں شہادت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی۔
فیصل کریم کنڈی نے شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کو ملک کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا، انہوں نے کہا کہ شہید کی زندگی دین کے پرچار اور امن کے فروغ میں صرف ہورہی تھی ایسے علماء فتنہ الخوارج فتنہ الہندوستان کے آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ مولانا کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی قاتلوں کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا محمد ادریس کی شہادت افسوسناک ہے، مشکل کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مولانا ادریس کی شہادت پر اپنے بیان میں کہا کہ مولانا محمد ادریس ایک باوقار شخصیت تھے۔ ان کی دینی، علمی، سیاسی اور سماجی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی۔
سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس دلخراش سانحے پر اہلِ خانہ اور تمام لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال لمحۂ فکریہ ہے۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے، مگر مسلسل ایسے واقعات حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔