جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں امریکا کے مجوزہ بحری مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں شرکت کے امکان پر غور شروع کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ملک اس مشن میں عملی طور پر حصہ لے سکتا ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے مختلف سفارتی اور عسکری پہلوؤں کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک نیا فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور عالمی جہازرانی کو بحال کرنا ہے۔
یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے تاہم حالیہ کشیدگی اور بحری ناکہ بندی کے باعث یہاں جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر جنوبی کوریا اس مشن میں شامل ہوتا ہے تو یہ اقدام خطے میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنا سکتا ہے، تاہم اس سے کشیدگی میں اضافے کے خدشات بھی موجود ہیں، خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں۔