روس کے فضائی حملوں میں یوکرین کے سرکاری گیس ادارے نیفتوگاز کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 3 ملازمین اور 2 ریسکیو اہلکار شامل ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ حملے یوکرین کے علاقوں پولتاوا اور خارکیف میں کیے گئے، جہاں رات کے وقت میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے گیس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
نیفتوگاز کے سربراہ سیرہی کوریٹسکی کے مطابق اس مشترکہ حملے میں بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرونز) اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان اور پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے باعث تقریباً 3500 صارفین کو گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جبکہ متعدد مقامات پر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے روس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف جنگ بندی کا اعلان کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف حملے جاری ہیں، جو ’انتہائی منافقت‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اگر چاہے تو فوری طور پر جنگ بند کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ روسی صدر پیوٹن نے 8 اور 9 مئی کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جبکہ یوکرین نے اس سے پہلے 5 اور 6 مئی کو اپنی جانب سے سیزفائر کی پیشکش کی تھی۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے حالیہ حملے میں 11 بیلسٹک میزائل اور 164 ڈرونز داغے، جن میں سے بیشتر کو تباہ کر دیا گیا، تاہم کچھ میزائل اور ڈرونز اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
دوسری جانب یوکرین نے بھی روس کے شہر کیریشی میں ایک بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی، تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ اور حملوں کا یہ سلسلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔