مولانا ادریس پر حملہ کرنے والے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا گیا، تصاویر حاصل کرلی گئیں

ابتدائی تفتیش میں لگ رہا ہے منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور ایک حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے، تفتیشی حکام


احتشام خان May 04, 2026
مولانا ادریس کو چارسدہ میں شہید کیا گیا—فوٹو: جے یو آئی فیس بک

چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس پر حملہ کرنے والے نیٹ ورک کے بارے تفتیشی ٹیموں نے سراغ لگا لیا گیا اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مبینہ حملہ آوروں کی تصاویر بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔

آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہے، ملوث عناصر کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔

مولانا شیخ ادریس کے قتل کے واقعے کی تفتیش کنے والے حکام کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور مقامی پولیس کی جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم نے حاصل فوٹیج سے اہم مواد کا جائزہ لیا اور واردات میں ملوث 4 میں سے ایک دہشت گرد کی نشان دہی ہوگئی۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ دہشت گرد کی نشان دہی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ہوئی، دہشت گرد کا تعلق افغانستان سے ہے اور جس دہشت گرد کی نشان دہی ہوئی اس کے ذریعے مکمل نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

تفتیشی حکام نے مزید کہا کہ ابتدائی تفتیش میں لگ رہا ہے یہ منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی ہے۔

جید عالم دین مولانا محمد ادریس پر آج صبح تقریباً آٹھ بج کر دس منٹ پر تھانہ اتمانزئی (چارسدہ) کی حدود میں حملہ کیا تھا جہاں نامعلوم دو موٹر سائیکل سوار4 دہشت گردوں نے مولانا کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی اور واقعے کے فوری بعد مولانا ادریس اور دونوں زخمی کانسٹیبلز کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

مولانا محمد ادریس اسپتال منتقلی کے دوران راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تاہم زخمی کانسٹیبلز کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ملزمان کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں جن کی بنیاد پر ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔

پولیس نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک منظم ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔

آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو جدید سائنسی خطوط پر کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان سفاک قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو بہت جلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور علاقے میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھا جائے گا۔