لاہور ہائیکورٹ میدان جنگ بن گیا جہاں کیس کی سماعت پر آئے دو گروپس آپس میں لڑ پڑے۔
جسٹس شہباز رضوی نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی ضمانت خارج کی جس کے بعد دونوں گروپس کے فریقین کا ایک دوسرے پر تھپڑوں اور گھونسوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی سیکیورٹی اسٹاف نے دونوں گروپس کے فریقین کو حراست میں لے لیا۔
ملزمان کے خلاف گجرانوالہ میں لڑائی جھگڑے کا مقدمہ درج ہے۔