وفاقی آئینی عدالت سے پنجاب حکومت کو بڑا ریلیف مل گیا

آئینی عدالت نے 40 ارب روپے سے زائد مالیت کی اراضی کا قبضہ پنجاب حکومت کو دینے کی ہدایت کر دی


ویب ڈیسک May 06, 2026

وفاقی آئینی عدالت سے پنجاب حکومت کو بڑا ریلیف، مری میں 577 کنال اراضی کی الاٹمنٹ منسوخی کے خلاف اپیلیں خارج کر دی گئیں۔

آئینی عدالت نے 40 ارب روپے سے زائد مالیت کی اراضی کا قبضہ پنجاب حکومت کو دینے کی ہدایت کر دی۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کئی دہائیوں بعد زمین کی الاٹمنٹ غیر قانونی کیسے قرار دی جا سکتی ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جس قانون کے تحت الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا وہ اس وقت بنا ہی نہیں تھا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ سیٹلمنٹ سکیم کے تحت صرف زرعی اراضی ہی الاٹ کی جا سکتی ہے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ جو زمین الاٹ کی گئی وہ شہری علاقہ ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ زمین کی الاٹمنٹ غلط تھی، بنیاد غیر قانونی ہو تو عمارت درست کیسے ہو سکتی ہے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ درخواست گزار زرعی زمین کے عوض کسی دعوے کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ جو زمین الاٹ کی گئی وہ اس وقت کس کے زیر استعمال ہے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ کچھ حصہ پر کوہسار یونیورسٹی بن رہی ہے، کچھ گرلز گائیڈ اور اسکاؤٹس کے زیر استعمال ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ حکومت کے زیر قبضہ زمین عوامی استعمال میں ہے، کچھ زمین کا قبضہ حکومت نے واگزار کروانا ہے، زمین مری بیوٹیفیکیشن پراجیکٹ کے لیے بھی استعمال ہوگی، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔