اسرائیل کا بیروت پر حملہ، حزب اللہ کے کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسرائیل نے گزشتہ ماہ طے پانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں حملہ کیا، رپورٹ


ویب ڈیسک May 06, 2026
فوٹو: میڈیا

اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیروت حملہ کردیا اور حزب اللہ کی رضوان فورس کے ایک کمانڈڑ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ ماہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کے بعد پہلی بار بیروت پر حملہ کیا اور کہا ہے کہ شہر کے جنوبی مضافات میں ایلیٹ رضوان فورس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں اس کارروائی کا اعلان کیا اور اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اس حملے میں حزب اللہ کے کمانڈر شہید ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج یا حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے ایران نے لبنان میں بھی حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی صورت میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیاتھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران اور امریکا کا مؤقف ہے کہ وہ جاری تنازع ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جبکہ یہ حملے اس جنگ بندی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل کو بیروت پر حملوں سے روک دیا گیا تھا۔

جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجی لبنان میں دریائے لیتانی کے جنوبی علاقوں میں موجود رہے اور جنوبی لبنان میں حملے بھی جاری رہے جبکہ حزب اللہ نے اس کے جواب میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب گولہ باری کی اور مسلح ڈرون فائر کیے تھے۔

اسرائیل نے اس سے قبل دریائے لیتانی کے شمال میں واقع کئی علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت دی تھی، جو خبرایجنسی کے مطابق اسرائیل کے کارروائی کے دائرہ کار میں توسیع کی نشان دہی کر سکتی ہے۔

لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے بیان میں کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کسی اعلیٰ سطح کی ملاقات کی بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔