ہنگری کا دریا اور اوربان کا طلسم

ہنگری کے ووٹر نے بار بار’’ اوربان‘‘ کو منتخب کیا ہے۔ یہ انتخاب محض میڈیا کنٹرول یا انتخابی انجینئرنگ کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک شعوری ترجیح بھی ہے۔


شیخ جابر May 07, 2026

Budapestکی شامیں اکثر اداس ہوتی ہیں۔ دریائے ڈینؤب کے کنارے بیٹھے ہوئے، ایک معمر شخص کو دیکھا جا سکتا ہے، جس کی آنکھوں میں نوے کی دہائی کا وہ جوش و خروش ہے جب سوویت بلاک کے گرنے کے بعد ایک نئے ہنگری کا خواب دیکھا گیا تھا۔ مگر آج، اسی شخص کے چہرے پر ایک عجیب سی لکیریں ہیں۔

خزاں کی ہلکی ہوا میں اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر نگاہیں پانی پر جمی تھیں—جیسے ماضی کو بہتے دیکھ رہا ہو۔ اس کے ساتھ اس کا پوتا تھا، جس نے اچانک پوچھا’’دادا، کیا ہنگری ہمیشہ ایسا ہی تھا؟‘‘بوڑھے نے مسکرا کر کہا’’نہیں بیٹا، ہم نے بادشاہ بھی دیکھے، کمؤنسٹ بھی، اور اب ایک ایسا زمانہ دیکھ رہے ہیں جس میں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں،مگر آزادی کی تعریف بدل چکی ہے۔‘‘

 یہ جملہ محض ایک کہانی نہیں، بلکہ آج کے ہنگری کی پوری سیاسی صورت حال کا نچوڑ ہے۔ہنگری کی موجودہ سیاست کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے ماضی کی چند جھلکیاں دیکھنا ہوں گی۔ یہ وہی ملک ہے جو کبھی آسٹروہنگیرین سلطنت کا حصہ تھا، پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد سوویت اثر میں چلا گیا اور 1989 میں کمؤنزم کے خاتمے کے بعد جمہوریت کی طرف آیا۔ اس جمہوریت نے امیدیں بھی جگائیں اور ماؤسیاں بھی پیدا کیں۔

انھی ماؤسؤں کے بطن سے وکٹر اوربان کی سیاست نے جنم لیا۔وکٹر اوربان کوئی حادثاتی لیڈر نہیں۔ وہ اس خلا کا نتیجہ ہیں جو لبرل جمہوریت نے خود پیدا کیا۔ جب جمہوریت محض معاشی عدم مساوات، ثقافتی بے یقینی اور شناخت کے بحران کو بڑھائے، تو پھر وہی جمہوریت اپنے خلاف ردعمل بھی پیدا کرتی ہے۔حالیہ انتخابات اسی ردعمل کا تسلسل ہیں، نہ کہ کوئی اچانک موڑ۔ہنگری کی سیاست آج ایک ایسی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں وکٹر اوربان کا 'نظامِ قومی تعاون'(ین ای آر) پہلی بار اپنی بنیادوں پر لرزتا دکھائی دے رہا ہے۔

 'ڈیسنٹ'میگزین میں گیبور ہلمانی کی موجودہ تحریر اور اور ’’نؤ لیفٹ رؤؤ‘‘ میں ’’کیلے شائے بنکو‘‘کا کے حالیہ تجزیے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہنگری کی سیاست محض انتخابات کا کھیل نہیں، بلکہ جمہوریت، مطلق العنانیت اور شناخت کے مابین ایک گہری جنگ ہے۔دونوں مغربی تجزیاتی تحریریں،ایک میں اوربان کو ایک آمرانہ رجحان رکھنے والے راہ نما کے طور پر پیش کیا گیا، جب کہ دوسری میں اسے ایک بڑی لہر کا حصہ سمجھا گیا۔ایک بنیادی غلطی کرتی ہیں،وہ ہنگری کے ووٹر کو یا تو گمراہ سمجھتی ہیں یا خوف زدہ۔جب کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

ہنگری کے ووٹر نے بار بار’’ اوربان‘‘ کو منتخب کیا ہے۔ یہ انتخاب محض میڈیا کنٹرول یا انتخابی انجینئرنگ کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک شعوری ترجیح بھی ہے۔ مغربی لبرل حلقے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں کؤں کہ اس سے ان کا بنیادی بیانیہ کم زور پڑتا ہے کہ جمہوریت ہمیشہ لبرل ازم کی طرف جاتی ہے۔جب کہ ہنگری میں جمہوریت موجود ہے، مگر وہ لبرل نہیں رہی اور یہ ہی وہ نقطہ ہے جسے مغربی تجزیہ کار سمجھنے میں ناکام رہے ہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے۔

 اوربان نے ایک ایسا نظام تشکیل دیا ہے جسے وہ’’غیر لبرل جمہوریت ‘‘کہتے ہیں۔ اس میں انتخابات ہوتے ہیں، عوام ووٹ دیتے ہیں، مگر ریاست اپنی ثقافتی اور قومی شناخت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مغربی لبرل جمہوریت فرد کی آزادی کو مرکز میں رکھتی ہے، چاہے اس کے نتیجے میں قومی شناخت کم زور ہی کؤں نہ ہو جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہنگری کے عوام نے اس راستے کو کؤں چنا؟اس کا جواب معاشی اعداد و شمار سے زیادہ نفسیاتی اور تہذیبی ہے۔ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد ہنگری کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ بیروزگاری بڑھی، متوسط طبقہ سکڑنے لگا اور ؤرپی ؤنین سے وابستہ امیدیں مدھم پڑنے لگیں۔ اسی دوران مہاجرین کا بحران آیا، جس نے ہنگری جیسے نسبتاً یکساں معاشرے میں ایک گہری بے چینی پیدا کی۔ایسے میں اوربان نے اسی بے چینی کو زبان دی۔

اُس نے خود کو محض ایک سیاستدان نہیں بلکہ’’قوم کے محافظ ‘‘کے طور پر پیش کیا۔ اس بیانیے میں ایک سادگی تھی’’ہماری شناخت خطرے میں ہے، اور ہمیں اسے بچانا ہے۔‘‘مغربی تجزیہ کار اس بیانیے کو محض پروپیگنڈا سمجھتے ہیں، مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ بیانیہ کؤں اثر انداز ہوا۔یہاں دوسری بڑی غلطی سامنے آتی ہے: مغربی تجزیہ ہنگری کو اپنے ہی نظریاتی سانچے میں فٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے، بجائے وہ اسے اس کے اپنے تاریخی اور سماجی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرے۔

ہنگری ایک ایسا ملک ہے جس نے بار بار بیرونی طاقتوں کے تسلط کا سامنا کیا ہے،چاہے وہ عثمانی سلطنت ہو، ہابسبرگ سلطنت، یا سوویت ؤنین۔ اس تاریخی تجربے نے اس کے اجتماعی شعور میں ایک گہری خودمختاری کی خواہش پیدا کی ہے۔ جب ؤرپی ؤنین بعض پالیسؤں کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے، تو یہ محض پالیسی نہیں رہی بلکہ اِس نے ایک تاریخی خوف کو انگیخت کر دیااور،اوربان اسی خوف کو سیاسی طاقت میں بدل دیتا ہے۔

اب آتے ہیں موجودہ انتخابات کی طرف۔یہ انتخابات محض ایک پارٹی کی جیت یا ہار کا معاملہ نہیں، بلکہ دو مختلف تصورات کے درمیان مقابلہ ہیں۔ ایک طرف لبرل ؤرپ کا وژن، اور دوسری طرف قومی خودمختاری پر مبنی ریاست کا تصور۔اپوزیشن نے اس بار متحد ہو کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی، مگر اس اتحاد میں نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان تھا۔ مختلف الخیال جماعتیں محض ’’اوربان ‘‘کے خلاف اکٹھی ہوئیں، مگر وہ کوئی واضح متبادل پیش نہ کر سکیں۔

یہاں تیسری بنیادی کم زوری سامنے آتی ہے: صرف مخالفت کسی سیاسی بیانیے کو شکست نہیں دے سکتی، جب تک کہ آپ کے پاس ایک مضبوط متبادل نہ ہو۔

اوربان کے پاس بیانیہ ہے، نظم ہے، اور ایک واضح سمت ہے،چاہے کوئی اس سے اتفاق کرے یا نہ کرے۔ اپوزیشن کے پاس ان میں سے کوئی چیز مکمل طور پر موجود نہیں۔

 اب مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں۔کیا اوربان ہمیشہ کے لیے اقتدار میں رہے گا؟ غالباً نہیں۔مگر کیا اس کا ماڈل ختم ہو جائے گا؟ اس کا جواب زیادہ پیچیدہ ہے۔ہنگری میں ایک نیا متوسط طبقہ ابھر رہا ہے، جو ؤرپ کے ساتھ جڑا ہوا بھی ہے اور اپنی قومی شناخت سے بھی وابستہ ہے۔

یہ طبقہ مستقبل میں ایک زیادہ متوازن سیاست کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ مگر فی الحال، یہ طبقہ تقسیم کا شکار ہے۔دوسری طرف، ؤرپی ؤنین کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔خاص طور پر فنڈز اور قانونی معاملات کے حوالے سے۔ اگر یہ دباؤ بہت زیادہ بڑھتا ہے، تو ہنگری کے اندر ایک ردعمل بھی پیدا ہو سکتا ہے، جو اوربان کو مزید مضبوط کر دے گا۔یہاں ایک محتاط اندازہ لگایا جا سکتا ہے:مختصر مدت میں اوربان کا نظام مستحکم رہے گا۔درمیانی مدت میں اپوزیشن اگر اپنی تنظیم اور بیانیہ درست کرے، تو وہ ایک حقیقی چیلنج بن سکتی ہے۔طویل مدت میں ہنگری ایک ہائبرڈ ماڈل کی طرف جا سکتا ہے۔ نہ مکمل لبرل، نہ مکمل غیر لبرل۔

 ایک بات توطے ہے۔ آج کا ہنگری ؤرپ کے لیے ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں یہ سوال آزمایا جا رہا ہے کہ کیا جمہوریت لبرل ازم کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے؟ اور اگر رہ سکتی ہے، تو اس کی شکل کیا ہوگی؟مغربی تجزیہ کار اس سوال سے گھبراتے ہیں، کؤں کہ اس کا جواب ان کے پورے فکری ڈھانچے کو چیلنج کرتا ہے۔

آخر میں، ہمیں اس بوڑھے آدمی کی طرف لوٹنا چاہیے جو ڈینؤب کے کنارے بیٹھا تھا۔

اس نے اپنے پوتے سے کہا۔’’ہر دور میں لوگ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے بہترین نظام پا لیا ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ نظام کیا ہے ‘‘بلکہ یہ ہے کہ وہ انسان کو کیا بنا رہا ہے۔’’ہنگری کا معاملہ بھی یہی ہے۔یہ محض ایک ملک کی سیاست نہیں، بلکہ ایک بڑے سوال کا حصہ ہے۔ کیا ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جو ہمیں آزاد کرے، یا ایسی جو ہمیں محفوظ رکھے؟ اور کیا یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن ہیں؟

یہ سوال ابھی کھلا ہے اور ہنگری اس کا جواب لکھ رہا ہے۔آہستہ آہستہ، مگر بہت واضح انداز میں۔