برصغیر میں عدالتی نظام کا ارتقاء

ہندوستان کی تاریخ کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ قدیم دور میں آزاد عدلیہ کا تصور موجود نہیں تھا۔



ہندوستان کی تاریخ کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ قدیم دور میں آزاد عدلیہ کا تصور موجود نہیں تھا۔ مغل دور میں بادشاہ قاضی مقرر کرتے تھے۔ مغلوں کے دور میں چند قاضی ایسے گزرے ہیں جنھوں نے بادشاہ کی خواہش کو رد کرتے ہوئے فیصلے کیے اور پھر بادشاہِ وقت کے قہر کا شکار ہوئے۔

لندن کی حکومت نے 1688 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستان میں عدالت قائم کرنے کا چارٹر عطا کیا تھا، ؤں مدراس میں اسی سال پہلی عدالت قائم ہوئی۔ 1726 میں برطانوی حکومت نے پہلا چارٹر منسوخ کرکے نیا چارٹر جاری کیا۔ اس چارٹر کے تحت تین پریزیڈنسی ٹاؤنس میئرز عدالتیں (Presidency Town Mayors Courts) قائم ہوئیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں 1773 میں کلکتہ میں سپریم کورٹ قائم ہوئی۔ 1858میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا اقتدار ختم ہوا اور برطانوی حکومت نے پورے ہندوستان میں جدید عدالتوں کا نظام قائم کیا۔ پہلے ان عدالتوں میں گورے عدالتوں کے جج مقرر ہوتے تھے۔ برطانوی حکومت نے پہلی دفعہ ایک ہندوستانی شہری جسٹس سمبو ناتھ پنڈت کو 2 فروری 1863کو کلکتہ ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا تھا۔

برطانیہ ہند کی حکومت عدلیہ کی مکمل آزادی کے حق میں نہیں تھی، یہی پالیسی تھی کہ جب کسی عدالت کے سامنے ہندوستانی شہری دوسرے ہندوستانی شہری کے خلاف استغاثہ دائر کرتا تھا تو جج مکمل انصاف کرتے تھے مگر جب معاملہ کسی گورے کا آجاتا یا کسی شہری نے کسی بھی طرح ہندوستان کی آزادی کی حمایت میں کوئی کام (جرم) کیا ہوتا تو یہ عدالتیں اندھی ہوجاتی تھیں۔

 عظیم انقلابی بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی طویل بھوک ہڑتال اور عوام کے احتجاج کے باوجود انصاف سے محروم رہے مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بھگت سنگھ کی پھانسی کی نگرانی کا مرحلہ آیا تو کسی بھی ہندوستانی جج نے یہ فریضہ انجام دینے سے انکار کیا۔ لاہور انتظامیہ کے دباؤ پر نواب محمد خان قصوری جو اعزازی مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز تھے ،یہ فریضہ انجام دینے پر تیار ہوگئے تھے۔

ہندوستان کے بٹوارے کے بعد انڈیپنڈنٹ ایکٹ کے تحت انگریزوں کی تیار کردہ مسلمان بؤروکریسی نے نئے ملک کا نظام سنبھال لیا۔ سابق بؤروکریٹ غلام محمد سیکریٹری جنرل چوہدری محمد علی وزیر اعظم اور گورنر جنرل سے زیادہ طاقت ور ہوئے۔ جب فیڈرل کورٹ قائم ہوئی تو سندھ چیف کورٹ کے چیف جسٹس طیب علی سینیارٹی میں سب سے آگے تھے مگر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عبدالرشید کو پاکستان کا پہلا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ چیف جسٹس عبدالرشید ریٹائر ہوئے تو بنگال ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایس اکرم سینئر ترین جج تھے۔گورنر جنرل غلام محمد بنگالی جج کو چیف جسٹس بنانے پر تیار نہ ہوئے اور حکومت برطانیہ سے درخواست کی گئی کہ گورے جج کو پاکستان کا دوسرا چیف جسٹس بنانے کے لیے نامزد کیا جائے۔ جسٹس اکرم نے تاریخی فیصلہ کیا۔ انھوں نے گورنر جنرل سے کہا کہ انھیں چیف جسٹس نا بنائیں، مگر برطانیہ سے جج درآمد نہ کریں۔ غلام محمد نے ایک جونیئر جج جسٹس منیر کو چیف جسٹس مقرر کردیا۔

جسٹس منیر نے اس ملک میں جمہوریت کی کمزور بنیادوں کو کھودنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انھوں نے اس ملک کو ایک آمرانہ نظریہ ضرورت سے روشناس کرایا۔ جسٹس منیر نے پہلے گورنر جنرل کی جانب سے پہلی آئین ساز اسمبلی توڑنے کے فیصلہ کو قانونی جواز فراہم کیا۔ 1959 میں جنرل اؤب خان کے مارشل لاء کو نظریہ ضرورت کے تحت ہی قانونی اقدام قرار دیا۔ تاریخ شاید ہے کہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے جب قانونی حکومتوں کو برطرف کیا تو جسٹس انوار الحق اور جسٹس ارشاد حسن خان نے جسٹس منیر کی Doctrine کی آڑ لے کر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی حکومتوں کو قانونی جواز فراہم کیا، ؤں انتظامیہ کی عدلیہ پر بالادستی کی روایت مستحکم ہوئی۔ غیر جمہوری نظام کی بنیاد پر اکثریتی صوبہ مشرقی پاکستان کے عوام میں احساسِ محرومی سرائیت کرگیا۔

جسٹس انوار الحق نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔ تاریخ نے اس فیصلہ کو بھٹو کا عدالتی قتل قرار دیا۔ سینئر وکلاء کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ اتنا برا ہے کہ آج تک اس فیصلہ کو کسی بھی عدالت میں نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکا۔ جسٹس منیر نے انتظامیہ کی بالادستی کی جو روایت قائم کی اس روایت کو مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کیانی نے سب سے پہلے چیلنج کیا مگر جنرل اؤب خان کی حکومت نے سزا کے طور پر جسٹس کیانی کو سپریم کورٹ میں ترقی نہیں دی۔

اسی طرح جسٹس اے آر کارنیلئس نے جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ۔جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد علیم، جسٹس فخر الدین جی ابراہیم، جسٹس سعید الزماں، جسٹس ناصر اسلم زاہد اور جسٹس خدا بخش مری وغیرہ نے جسٹس منیر کے نظریہ کو مکمل طور پر مسترد کیا۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ اقتدار میں سپریم کورٹ نے الجہاد ٹرسٹ کیس میں ایک تاریخی فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کے تحت عدلیہ انتظامیہ کے تسلط سے آزاد ہوئی اور چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے سینیارٹی کا اصول طے ہوا۔ اس فیصلے کا سب سے پہلے نشانہ اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ بنے جو فیصلہ کے منصفین میں شامل تھے۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے سجاد علی شاہ کو جونیئر جج ہونے کے باوجود چیف جسٹس مقرر کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے تمام ججوں نے ان کی معزولی کا فیصلہ کیا۔

جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو عبوری آئینی حکم (P.C.O) کے تحت ججوں کو ایسا حلف اٹھانے کی ہدایت کی گئی جس کے تحت جنرل پرویز مشرف کی حکومت قانونی قرار پائی مگر اس وقت کے چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی، جسٹس ناصر اسلم زاہد ، جسٹس وجیہ الدین احمد اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس رشید رضوی نے حلف اٹھانے سے انکار کیا، جب جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معزول کیا تو وکلاء برادری نے تاریخی تحریک چلائی۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ جسٹس افتخار چوہدری بحال ہوگئے مگر انھوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ایک متوازی حکومت قائم کی۔ انھوں نے عوام کو جلد اور سستا انصاف فراہم کرنے کے اہم ترین مسئلہ پر توجہ نہیں دی۔

وکلاء تحریک میں کچھ خطرناک منفی رجحانات ابھر کر سامنے آئے۔ عوام میں وکلاء تحریک کے حوالے سے ماؤسی پیدا ہوئی۔ انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر نے جسٹس افتخار چوہدری کی آمریت کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی اور وکلاء نے انھیں سپریم کورٹ بار کا صدر منتخب کیا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں نہ صرف منتخب وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا بلکہ ایک متوازی حکومت قائم کرلی۔ ان کے بعد آنے والے چیف جسٹس صاحبان نے اپنے پیش رو جج صاحبان کی پیروی کی، ؤں عدلیہ کی متوازی حکومت کے منفی اثرات ظاہر ہونے لگے۔ججز کی تقرری‘ تعیناتی اور ٹرانسفر کا نیا نظام قائم ہوا ہے‘ اس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے تبادلے ہوئے ہیں‘ بہر حال 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے آزاد عدلیہ جمہوری نظام کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔