ایران کو یورینیم کے بدلے معاشی ریلیف دینے کی پیشکش کامیاب نہ ہو سکی، امریکی جریدے کا دعویٰ

منصوبے کے تحت ایران 12 سے 15 سال تک یورینیم افزودگی محدود رکھنے کا پابند ہوتا


ویب ڈیسک May 07, 2026
فوٹو: اے آئی تخلیقی اور تصوارتی تصویر

واشنگٹن:

امریکی جریدے وائرڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی حلقوں نے ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر کام کیا جس کے تحت تہران اپنے افزودہ یورینیم سے دستبردار ہوتا جبکہ بدلے میں اسے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز اور پابندیوں میں نرمی دی جاتی۔

رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ ڈیل میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اہم کردار ادا کیا اور یہ فریم ورک صدارتی منظوری کے بعد تیار کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت ایران اپنے ہائی لیول افزودہ یورینیم کو منتقل کرنے پر آمادہ ہوتا جبکہ 12 سے 15 سال تک یورینیم افزودگی محدود رکھنے کی شرط بھی شامل تھی۔

اس کے بدلے ایران کو تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی اور معاشی پابندیوں میں نرمی دی جانا تھی۔

وائرڈ کے مطابق ابتدائی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو سیاسی طور پر حساس قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کیونکہ ایران کو بڑی مالی رعایت دینے کا تاثر امریکی سیاست میں شدید ردعمل پیدا کر سکتا تھا۔