سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کیخلاف درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جسٹس محمد سلیم جیسر کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبربی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
بیرسٹر صلاح الدین نے موقف اپنایا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدالت کے جوابات دینے میں ناکام رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ پہلے مجھے سیلنگ آرڈر کو چیلنج کرنا چاہیئے تھا۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے استفسار کیا کہ پہلے آپ یہ بتائیں مختیار کار نے دفتر سیل کرکے کیا غلطی کی ہے۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ مختیار کار ڈی سی کو کوئی اختیار نہیں تھا نہ ہی کوئی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ٹرانس کراچی و دیگر درخواستگزار کی مشنری و دیگر سامان چھیننا چاہتے تھے۔
جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ کوئی سڑک تو بنی ہوتی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ انڈر گراؤنڈ وغیرہ کا سارا کام کنٹریکٹر کرچکا ہے۔ 15 اپریل کو انجینئرز نے لیٹر لکھا ہے مکس ٹریفک لین کے حوالے سے کہ 4 سال پہلے والا ڈیزائن تبدیل کردیں۔ 12 کلو میٹر کا ٹریک بننا تھا، 3 کلو میٹر آج تک نہیں ملا ہے وہاں کے فور کا کام ہورہا ہے۔ اب 3 گنا زیادہ پیسوں میں کام ہوگا مزید تاخیر کا معاملہ انٹرنیشنل آربیٹریشن میں دیکھیں گے۔
ناظر کی رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹر کی 20 گاڑیاں وہاں کھڑی ہیں۔ یہاں معاملہ کنٹریکٹر کا نہیں ہے حکومت کا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ وکیل درخواستگزار سیاسی باتیں کررہے ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے۔
جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے ہم آج کہتے ہیں سائٹ ڈی سیل کی جائے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ ناظر کی رپورٹ ابھی تک نہیں آئی ہے۔ جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس میں کہا کہ اگر یہ مشنری کے ایم سی کے پاس رہے گی تو کیا فائدہ ہوگا؟
کنٹرکٹر نے کہا کہ میں حقیقت عدالت کو بتانا چاہتا ہوں۔ ہمیں ایک ایک ڈرائنگ 4، 4 ماہ بعد ملتا تھا۔ ڈیزائن تبدیل کرکے کنسلٹنٹ کے فائدے ہورہے تھے انکو پیسے ملتے تھے، ایسی ایسی چیزیں پیش کرسکتا ہوں آپ حیران ہو جائیں گے۔ چائینیز ایمبیسی نے اپنے سرمایہ کاروں کو یہاں کام سے روک دیا ہے۔ چائنیز یہاں حیران ہیں کہ یہاں کس قسم کا کام ہورہا ہے۔
نیب نے مجھے بلایا تھا میں نے سب کچھ ان کو بتایا تھا۔ اس پر کمیشن بنایا جائے۔ 700 فیملیز کے لوگوں کا روزگار متاثر ہورہا ہے۔ چائینیز کمپنی انٹرنیشنل آربیٹریشن کرنے جارہی ہے۔
درخواست پر فریقین کے وکلا کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔