خلافِ قانون بھرتی متعلقہ اداروں نے کی، ملازمین کا قصور نہیں، وفاقی آئینی عدالت

عدالت نے حکومت کو ملازمت کے دوران ملنے والی تنخواہوں اور مراعات کی ریکوری سے روک دیا


ویب ڈیسک May 07, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے کے دوران قرار دیا ہے کہ خلافِ قانون بھرتی متعلقہ اداروں نے کی ہے، اس میں ملازمین کا قصور نہیں۔

دوران سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی کوٹے پر بھرتی سے متعلق کیس کی سماعت وفاقی آئینی عدالت میں ہوئی، جس میں عدالت نے کوٹے پر بھرتی ہونے والی کلرک سمیعہ نذیر کی اپیل خارج کر دی ۔

عدالت نے حکومت کو ملازمت کے دوران ملنے والی تنخواہوں اور مراعات کی ریکوری سے روک دیا ۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ فیصلے سے پہلے والی بھرتیاں برقرار رہیں گی۔ میری موکلہ پنجاب میں کوٹہ ختم ہونے سے پہلے بھرتی ہوئی تھی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ درخواست گزار کے کیس پر لاگو نہیں ہوتا۔

جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ  پنجاب میں فوت ہونے پر بچوں کو ملازمت دینے کا قانون ختم ہوچکا ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سندھ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کوٹہ ختم کیا۔ خلافِ قانون بھرتی متعلقہ اداروں نے کی، ملازمین کا کوئی قصور نہیں۔ ملازمین نے جتنا عرصہ کام کیا، اس کی تنخواہیں و مراعات واپس نہیں لی جا سکتیں۔

واضح رہے کہ محکمہ زراعت نے خلافِ قانون کوٹہ پر بھرتی ہونے والی کلرک سمیعہ نذیر کو برطرف کر دیا تھا ، جس پر لاہور ہائیکورٹ اور وفاقی آئینی عدالت نے برطرفی کیخلاف اپیلیں خارج کر دیں۔