ایران امریکا مفاہمت کی سمت: امن کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان زیر غور چودہ نکاتی فارمولہ بھی اسی تناظر میں غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔


ایڈیٹوریل May 08, 2026

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ صرف چند سیاسی فیصلوں، سفارتی اشاروں اور عسکری تحمل سے متعین ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی، اسرائیل کے جارحانہ بیانات، خلیجی ریاستوں کی تشویش اور عالمی معیشت پر منڈلاتے خطرات نے پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا تھا۔

ایسے ماحول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے، جس نے نہ صرف جنگ کے فوری خطرات کو کسی حد تک کم کیا بلکہ سفارت کاری کو دوبارہ مرکزی حیثیت بھی عطا کی ہے۔ پاکستان سمیت مختلف دوست ممالک کی اپیل پر سامنے آنے والا یہ فیصلہ اس امر کا ثبوت ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں مستقل استحکام طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت، علاقائی توازن اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔

 آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکی فوجی آپریشن کے آغاز اور ایرانی ردعمل کے امکانات نے شدت اختیار کی تو عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتیں یکدم بلند ہو گئیں، سرمایہ کار خوفزدہ ہوئے اور عالمی تجارتی سرگرمیوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی، تاہم جیسے ہی امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں سامنے آئیں اور واشنگٹن نے اپنے فوجی آپریشن کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا، تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی، یہ ردعمل دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی معیشت جنگ کی نہیں بلکہ استحکام، پیش گوئی اور امن کی متقاضی ہے۔

یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں پاکستان ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے اس بات کی تصدیق کہ تہران امریکی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد اپنا موقف پاکستان کے ذریعے آگاہ کرے گا، اسلام آباد کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی مختلف عالمی اور علاقائی تنازعات میں مفاہمت کی کوششوں کا حصہ رہا ہے، لیکن اس بار صورتحال زیادہ حساس ہے کیونکہ اس تنازعے کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی، معیشت اور علاقائی روابط پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، دوسری جانب امریکا کے ساتھ بھی اس کے اہم سفارتی اور اقتصادی روابط موجود ہیں۔ یہی متوازن حیثیت پاکستان کو ایک قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے لاتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکی صدر کے فیصلے کا خیرمقدم دراصل اسی سفارتی حکمت ِ عملی کا تسلسل ہے جس کے تحت پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ اگر خلیج میں جنگ پھیلتی ہے تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ سیاسی عدم استحکام، مہاجرین کے بحران، فرقہ وارانہ کشیدگی اور معاشی ابتری کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس لیے اسلام آباد کی خواہش ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے سیاسی حل کی طرف بڑھیں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

 امریکا اور ایران کے درمیان زیر غور چودہ نکاتی فارمولہ بھی اسی تناظر میں غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کی تمام تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم جو نکات سامنے آئے ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریق کسی نہ کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں۔

ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی محدود کرنے کی آمادگی اور امریکا کی طرف سے ایرانی اثاثے بحال کرنے یا پابندیوں میں نرمی کا عندیہ اس امر کا ثبوت ہے کہ شدید ترین تنازعات میں بھی مفاہمت کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہوتا ہے کہ فریقین اپنی سیاسی انا، داخلی دباؤ اور اسٹرٹیجک مفادات کے درمیان کس حد تک توازن پیدا کر پاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں ایک طرف مذاکرات کے حوالے سے امید دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف دھمکی آمیز لہجہ بھی نمایاں ہے۔

انھوں نے معاہدے کی صورت میں جنگ کے خاتمے کا عندیہ دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو اسے پہلے سے زیادہ شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو امریکی خارجہ پالیسی میں اکثر دکھائی دیتا ہے۔ واشنگٹن بیک وقت مذاکرات بھی چاہتا ہے اور دباؤ کی سیاست بھی جاری رکھتا ہے۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ صرف دھمکیوں کے ذریعے ایران جیسے ملک کو جھکانا آسان نہیں۔ ایرانی قیادت نے ہمیشہ اپنی خودمختاری اور قومی وقار کو بنیادی حیثیت دی ہے، خواہ اس کے لیے اسے بھاری معاشی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔ایرانی موقف بھی اسی پیچیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔

تہران ایک طرف مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر رہا ہے لیکن دوسری طرف یہ واضح کر رہا ہے کہ وہ صرف ’’منصفانہ اور جامع‘‘ معاہدہ قبول کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ایران امریکی دباؤ کے سامنے غیرمشروط جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ ایران کی قیادت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر اس نے کمزور مؤقف اختیار کیا تو داخلی سطح پر اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی مذاکرات کار مسلسل اس تاثر کو مسترد کر رہے ہیں کہ تہران کسی ناکہ بندی یا فوجی دباؤ کے باعث ہتھیار ڈالنے جا رہا ہے۔ اس پورے بحران میں چین کا کردار بھی خاص توجہ کا مستحق ہے۔ بیجنگ نے نہ صرف امریکا اور اسرائیل کی جنگی حکمت عملی پر تنقید کی بلکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

چین چونکہ دنیا کا سب سے بڑا توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے خلیج میں استحکام اس کے براہ راست معاشی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی قیادت سفارتی ذرائع کو ترجیح دے رہی ہے اور ایران کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے بھی یہ امید ظاہر کرنا کہ چین ایران پر اثرورسوخ استعمال کرے گا، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں بیجنگ کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ عالمی منڈیوں کا ردعمل بھی اسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

جیسے ہی مذاکرات اور معاہدے کی خبریں سامنے آئیں، خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ گئی۔ برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دونوں کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار جنگ کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح دیتے ہیں، اگر آبنائے ہرمز مستقل طور پر بند ہوتی یا وہاں طویل فوجی تصادم جاری رہتا تو عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی تھی۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً توانائی درآمد کرنے والی معیشتیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی مہنگائی، مالیاتی دباؤ اور توانائی کے بحران سے نبردآزما ہیں، ان کے لیے تیل کی بلند قیمتیں ناقابل برداشت ثابت ہو سکتیں۔

 یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ موجودہ بحران نے عالمی طاقتوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی ایک فریق کی مکمل فتح ممکن نہیں۔ امریکا عسکری طور پر طاقتور ہونے کے باوجود خطے میں غیرمعینہ مدت تک محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، جب کہ ایران بھی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے باعث مسلسل تصادم کی پالیسی جاری نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے دونوں فریق بالآخر مذاکرات کی میز کی طرف لوٹنے پر مجبور ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ آیا یہ مذاکرات دیرپا اعتماد سازی کی بنیاد بن سکیں گے یا محض وقتی جنگ بندی تک محدود رہیں گے۔

ایک زمانہ تھا جب مشرق وسطیٰ کے معاملات میں امریکا کی پالیسی ہی فیصلہ کن تصور کی جاتی تھی، لیکن اب چین، روس اور علاقائی طاقتیں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ چین کا متحرک سفارتی کردار، روس کی محتاط حکمت عملی اور پاکستان جیسے ممالک کی ثالثی کوششیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ دنیا بتدریج کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس نئی صورتحال میں طاقت کے یکطرفہ استعمال کے بجائے مشترکہ سفارت کاری کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔

 پاکستان کے لیے اس بحران میں معاشی پہلو بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے، اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی یا طویل کشیدگی جاری رہتی تو پاکستان کا درآمدی بل مزید بڑھ جاتا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف ایندھن بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار کی لاگت بھی بڑھ جاتی، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ خلیج میں استحکام برقرار رہے اور عالمی منڈی میں توانائی کی رسد متاثر نہ ہو۔ حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان جیسے ممالک کے لیے وقتی ریلیف ضرور ہے، مگر مستقل فائدہ اسی صورت ممکن ہے جب خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔