جنوبی کوریا میں آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال کے باوجود خام تیل لے جانے والا پہلا جہاز پہنچ گیا جس کے بعد ملک میں توانائی سپلائی سے متعلق خدشات میں کچھ کمی دیکھی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مالٹا کے پرچم بردار آئل ٹینکر اوڈیسا کو جمعہ کی صبح جنوبی کوریا کے شہر سیوسان کے ساحلی علاقے کے قریب دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق جہاز تقریباً 10 لاکھ بیرل خام تیل لے کر پہنچا ہے۔ یہ جہاز ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نافذ ناکہ بندی کے دوران اس اہم بحری راستے سے گزر کر جنوبی کوریا پہنچنے والا پہلا آئل ٹینکر قرار دیا جا رہا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شپمنٹ کی آمد سے جنوبی کوریا میں تیل کی سپلائی اور توانائی تحفظ سے متعلق خدشات میں کمی آئے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق جہاز میں موجود خام تیل کو ریفائنری میں پراسیس کرنے کے بعد مقامی مارکیٹ میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی صورت میں فراہم کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اوڈیسا نامی جہاز نے 17 اپریل کو آبنائے ہرمز عبور کی تھی، جب ناکہ بندی میں مختصر نرمی دیکھی گئی تھی۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کی خبر ایجنسی یونہاپ نے رپورٹ کیا کہ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے قریب دھماکے اور آگ سے متاثر ہونے والا جنوبی کوریائی جہاز بھی دبئی بندرگاہ پہنچ گیا ہے۔
حکام کے مطابق دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی، جبکہ جنوبی کوریا نے تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی الزام پر حتمی رائے دینے سے گریز کیا ہے۔