امریکی جج نے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کا مبینہ ’خودکشی نوٹ‘ جاری کردیا

جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں نیویارک کی ایک جیل میں مردہ پائے گئے تھے


ویب ڈیسک May 08, 2026

بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے مبینہ خودکشی نوٹ کو ایک امریکی وفاقی جج نے عوام کے سامنے جاری کر دیا ہے جس کے بعد ایک بار پھر ایپسٹین کی موت سے متعلق بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جج کینیتھ کاراس نے ایک دستاویز جاری کی، جسے ایپسٹین کا مبینہ خودکشی نوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نوٹ میں لکھا گیا تھا:’یہ ایک خاص بات ہے کہ انسان خود اپنے الوداع کہنے کا وقت منتخب کر سکے۔‘

رپورٹس کے مطابق یہ ہاتھ سے لکھا گیا نوٹ ایپسٹین کے سابق جیل ساتھی نکولس کو ملا تھا، جو قتل کے مقدمات میں سزا یافتہ سابق پولیس افسر بھی ہے۔

یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں نیویارک کی ایک جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا، تاہم اس واقعے کے بعد سے مختلف سازشی نظریات اور سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔

امریکی اخبار کی درخواست پر جج نے یہ نوٹ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ یہ دستاویز ایک مجرمانہ مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ تھی، اس لیے عوام کو اس تک رسائی کا حق حاصل ہے۔

واضح رہے کہ نکولس ٹارٹاگلیونی اس وقت منشیات سے متعلق قتل کے مقدمات میں چار مرتبہ عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔