سال 2025 کے دوران جامعات میں منشیات کے 365 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کی 9 جامعات میں 10 فی میل اسٹوڈنٹس سمیت 143کیسز ہوئے جبکہ پارلیمنٹرینز نے منشیات کے استعمال کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق تعلیمی سال 2025 کے دوران ملک بھر کے 58 اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے مجموعی طور پر 385 کیسز رپورٹ ہوئے۔
ان کیسز میں طلبہ کی بڑی تعداد شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منشیات کے استعمال کے 10 کیسز سپورٹنگ سٹاف کے بھی ہیں۔ فیڈرل کی جامعات میں سب سے زیادہ 153کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
پنجاب میں 130 ، سندھ میں 75، خیبرپختونخوا میں 7 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب کی جامعات میں 28 طالبات، وفاقی دارالحکومت کی جامعات میں 10جبکہ سندھ کی جامعات میں 8 طالبات کے منشیات استعمال کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
حیران کُن طور پر کسی بھی یونیورسٹی میں فیکلٹی ممبران میں منشیات کے استعمال کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور ساتھ ہی خیبر پختونخواہ میں طالبات کے منشیات استعمال کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔
ایچ ای سی حکام نے کہا ہے تعلیمی اداروں میں منشیات اور تمباکو نوشی کے تدارک کے لیے باقاعدہ نگرانی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ پالیسی کے تحت ملک کی 245 سرکاری و نجی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں “اینٹی ڈرگ اینڈ ٹوبیکو کمیٹیاں” قائم کی جا چکی ہیں، جو انسدادِ منشیات قوانین پر عملدرآمد، آگاہی مہمات اور طلبہ کی رہنمائی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔