ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان

ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے صدور کا شکریہ ادا کیا اور دعویٰ کیا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس تنازع کے حل کے قریب ہو رہے ہیں


ویب ڈیسک May 08, 2026
فوٹو: فائل

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان 3 روز کے لیے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک،ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان 3 روز (9، 10 اور 11 مئی) کے لیے جنگ بندی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ روس میں تقریبات یوم فتح کے حوالے سے منائی جا رہی ہیں لیکن یوکرین بھی دوسری جنگ عظیم میں ایک اہم کردار ادا کرنے والا ملک تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ جنگ بندی میں تمام فوجی کارروائیوں میں تعطل شامل ہوگا اور دونوں ممالک میں ایک،ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوگا۔

امریکی صدر نے بتایا کہ یہ درخواست براہ راست میری جانب سے کی گئی تھی اور میری درخواست پر روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدردولودومیر زیلنسکی کی جانب سے اتفاق کرنے پر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے یہ ایک طویل خون ریز اور سخت جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی اور اس بڑی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا تنازع ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہر گزرتے دن ہم اس تنازع کے حل کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کردیا تھا، جس کے بعد اب تک دونوں اطراف کے سیکڑوں فوجی اور ہزاروں عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں اور ان میں اکثریت یوکرین کے شہریوں کی ہے۔

ولادیمیر پیوٹن نے نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کی یاد کو اپنی 25 سالہ حکمرانی کا مرکزی بیانیہ بنا دیا ہے اور  وہ ہر سال 9 مئی کو ماسکو کے مرکزی علاقے میں شان دار فوجی پریڈز کا انعقاد کرتے ہیں اور اسی تاریخی فتح کو یوکرین پر حملے کے جواز کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق تقریباً دو دہائیوں کے دوران اس مرتبہ پہلا موقع ہوگا جب فوجی سازو سامان کی پریڈ میں نمائش نہیں ہوگی اور غیرملکی مہمانوں کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔

قبل ازیں روس نے 9 مئی پریڈ کے سلسلے میں یک طرفہ طور پر دو روز کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جبکہ یوکرین نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی جانب سے بھی پہلے ہی پیش کش کی گئی تھی لیکن ماسکو نے اس کو نظرانداز کیا تھا۔