ہنٹا وائرس سے متاثرہ بحری جہاز پر سوار تمام افراد ہائی رسک قرار، عالمی ادارۂ صحت کا بڑا انتباہ جاری

جہاز ہسپانوی جزائر کینری کے قریب ٹینیرائف کے ساحلوں کی جانب بڑھ رہا ہے


ویب ڈیسک May 10, 2026

عالمی ادارۂ صحت نے ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ ’ایم وی ہونڈیئس‘ پر سوار تمام افراد کو ہائی رسک قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ان کی 42 روز تک مسلسل نگرانی کی جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تقریباً 150 افراد پر مشتمل یہ بحری جہاز اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں مہلک ہنٹا وائرس کے باعث اب تک 3 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جہاز ہسپانوی جزائر کینری کے قریب ٹینیرائف کے ساحلوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی وبائی امراض کی ڈائریکٹر ماریا وان کرخوف نے سوشل میڈیا بریفنگ میں کہا کہ جہاز پر موجود ہر شخص کو ’ہائی رسک کانٹیکٹ‘ سمجھا جا رہا ہے، اس لیے تمام مسافروں اور عملے کی 42 دن تک فعال نگرانی ضروری ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت جہاز پر موجود کسی شخص میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، تاہم احتیاطی اقدامات کے طور پر نگرانی جاری رکھی جائے گی۔ نگرانی کا دورانیہ مریض کے آخری ممکنہ رابطے کے وقت سے شمار کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں ایک ڈچ میاں بیوی اور ایک جرمن خاتون شامل ہیں، جبکہ وائرس کے 8 مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ افراد میں ’اینڈیز وائرس‘ پایا گیا، جو ہنٹا وائرس کی وہ قسم ہے جو انسان سے انسان میں منتقل ہوسکتی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق جہاز پر موجود افراد کو محفوظ اور باوقار انداز میں اتارنے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی شخص میں علامات ظاہر ہوئیں تو اسے فوری طور پر طبی طیارے کے ذریعے نیدرلینڈز منتقل کیا جائے گا، جبکہ دیگر مسافروں کو ان کے اپنے ممالک بھیجا جائے گا۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاسس نے ٹینیرائف کے عوام کے نام کھلے خط میں کہا کہ یہ دوسرا کورونا وائرس نہیں ہے اور مقامی آبادی کے لیے خطرہ کم ہے۔ تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر علاقائی حکام نے جہاز کو بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ جہاز سمندر میں ہی رہے گا جبکہ اسکریننگ اور انخلا کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ہنٹا وائرس عموماً چوہوں اور دیگر جانوروں سے پھیلتا ہے، لیکن اینڈیز وائرس کی قسم محدود پیمانے پر انسانوں کے درمیان بھی منتقل ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے عالمی صحت کے ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔