لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں شدت آگئی ہے، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں ہونے والی بمباری سے کم از کم 51 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 2 طبی کارکن بھی شامل ہیں۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے علاقوں قلاویہ اور تبنین میں طبی مراکز اور امدادی ٹیموں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ وزارتِ صحت نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ طبی عملے پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو تین ہفتے گزر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں ملک بھر میں 2 ہزار 846 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران کم از کم 103 لبنانی طبی کارکن ہلاک جبکہ 230 زخمی ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا کہ طبی عملے اور ریسکیو ٹیموں پر 130 سے زائد حملے کیے گئے۔
جنوبی لبنان کے شہر صور میں سول ڈیفنس کے سربراہ علی صفی الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکن ہر لمحہ اپنی جان کے خطرے میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد بھی امدادی سرگرمیاں جاری رکھنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔
دوسری جانب جنگی سرجن ڈاکٹر طاہر محمد، جنہوں نے غزہ اور لبنان دونوں میں کام کیا، نے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں طبی مراکز اور ہیلتھ ورکرز کو نشانہ بنانے کا طرزِ عمل دونوں محاذوں پر ایک جیسا دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 2 مارچ سے جاری حملوں کے باعث 12 لاکھ سے زائد لبنانی شہری بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں تباہی کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔