ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز ایک ’ذمہ دارانہ پیشکش‘ تھی، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں واضح مطالبات پیش کیے ہیں جن میں جنگ کا مکمل خاتمہ، امریکی ناکہ بندی اور بحری قزاقی جیسے اقدامات کا اختتام، اور امریکی دباؤ کے باعث بیرون ملک منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی رہائی شامل ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی فراہمی بھی ایران کے اہم مطالبات میں شامل ہے، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے خصوصاً لبنان میں سکیورٹی اور استحکام چاہتا ہے۔
ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو تہران بھرپور دفاع کرے گا، تاہم جہاں سفارت کاری اور مذاکرات کی گنجائش ہوگی، ایران اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے ایران کے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کیے جائیں گے اور ایران پہلے ہی ثابت کر چکا ہے کہ وہ اپنے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیاں اور علاقائی سکیورٹی بڑے تنازعاتی نکات بن چکے ہیں، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔