یورپی یونین نے اسرائیلی آبادکاروں اور حماس کے اہم رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اتفاقِ رائے سے کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق پابندیوں کا یہ پیکج کئی ماہ سے زیر التوا تھا کیونکہ ہنگری کے سابق وزیر اعظم وکٹر اوربان کی حکومت اس کی مخالفت کر رہی تھی تاہم ہنگری میں نئی حکومت کے قیام اور نئے وزیر اعظم پیٹر ماگیار کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ رکاوٹ ختم ہوگئی۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ اب وقت آگیا تھا کہ تعطل ختم کرکے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور تشدد کے نتائج ضرور نکلتے ہیں۔
پابندیوں کے تحت مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث 3 اسرائیلی آبادکاروں اور 4 آبادکار تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان کے نام فوری طور پر ظاہر نہیں کیے گئے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بیرو نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین نے ان اسرائیلی تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہے جو مغربی کنارے میں شدت پسند اور پرتشدد آبادکاری کی حمایت کر رہی تھیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے یورپی یونین کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا کہ یورپی یونین نے سیاسی بنیادوں پر اسرائیلی شہریوں اور تنظیموں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہودیوں کو مغربی کنارے میں آباد ہونے کا حق حاصل ہے۔
اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے بھی یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آبادکاری کا عمل جاری رہے گا۔
یورپی یونین نے اس کے ساتھ ساتھ حماس کی قیادت پر بھی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق حماس قیادت کو 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
حماس کے ایک سینئر رہنما باسم نعیم نے یورپی یونین کے اقدام کو سیاسی منافقت اور نسل پرستی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین مظلوم اور قابض قوت کو ایک ہی نظر سے دیکھ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔