کراچی: ڈکیتی مزاحمت پر لڑکی کو قتل کرنے والے ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

ملزم جوان ہے اور کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں، اصلاح کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عدالت


کورٹ رپورٹر May 12, 2026
(فوٹو: فائل)

سندھ ہائی کورٹ نے ڈکیتی مزاحمت پر لڑکی کے قتل کے مقدمہ میں ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی۔

جسٹس شمس الدین عباسی نے محمد نبی کی ٹرائل کورٹ کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت کی۔ 

پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ 2019 میں گلشن اقبال میں ملزمان نے مقتولہ اور انکے والد سے لوٹ مار کی اور مزاحمت پر 22 سالہ مصباح اختر کو گولی مار کر قتل کیا۔

وکیل صفائی کی ملزم کی سزا میں نرمی کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کا کوئی سابقہ کرمنل ریکارڈ نہیں ہے۔

جسٹس شمس الدین عباسی نے کہا کہ فوجداری نظام کا مقصد صرف سزا دینا نہیں ہے، فوجداری نظام میں اصلاح اور بحالی کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔

 عدالت نے کہا کہ ملزم جوان ہے اور کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، ملزم میں اصلاح کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، سزائے موت صرف انہی مقدمات میں دی جانی چاہیئے جہاں رعایت کو کوئی پہلو موجود نا ہو۔

عدالت نے ملزم کو سنائی گئی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی، عدالت نے دیگر دفعات کے تحت 8 برس قید اور 4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا برقرار رکھی۔