قومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوج داری میں موجود سزاؤں میں اضافے کا بل پیش کردیا گیا، جس میں فحش کتابوں، مواد اور فحش چیزوں کی فروخت و نمائش پر سزائیں مزید سخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوج داری میں موجود سزاؤں میں اضافے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، مجوزہ قانون میں سیکشن 292، 293، 294 اور شیڈول 2میں ترامیم تجویز کی گئی ہے۔
مجوزہ بل میں فحش کتابوں، ڈرائنگ، پینٹنگ، تصویر، مجسمے کی فروخت و نمائش پر سزاؤں میں اضافہ اور فحش کتابوں، مواد، چیز کی نمائش، فروخت اور کرائے پر سزا 3 ماہ سے بڑھا کر دو سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل کے متن کے مطابق مذکورہ مواد پر جرائم میں ملوث افراد کو قید کے ساتھ دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی ہوگی اور کسی فحش چیز کو مذکورہ مقاصد کے لیے درآمد، برآمد یا منتقل کرنے پر دو سال قید کی تجویز ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بل میں فحش چیز کے حصول کے لیے اشتہار دینے پر بھی 2 سال قید 2 لاکھ جرمانہ تجویز کیا گیا ہے، 20 سال سے کم عمر فرد کو فحش چیز فروخت کرنے یا کرائے پر دینے، تقسیم یا دکھانے پر دو سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ عوامی مقامات پر فحش حرکات کرنے، فحش گانا گانے یا الفاظ ادا کرنے پر 6 ماہ قید اور ایک لاکھ جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا مذکورہ بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے جو سینیٹ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔