بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 9 ملین (90 لاکھ) کے قریب ہے، جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق یہ تعداد ایک کروڑ کے قریب بھی ہو سکتی ہے۔ جب کہ سالانہ ترسیلات زر 30 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو اوورسیز پاکستانیوں کی ہجرت کی اقتصادی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
بیرونِ ملک روزگار کے لیے ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کے بارے میں ’بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ‘ کے مطابق، 2025ء میں تقریباً سات لاکھ 60 ہزار سے زائد پاکستانی کام کے لیے بیرونِ ملک گئے۔ یہ تعداد 2024ء کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے، جب تقریباً سات لاکھ 27 ہزار پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ زیادہ تر شہری خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین میں ہنر مند اور غیر ہنر مند ملازمتوں کے لیے جاتے ہیں۔
بہت سے پاکستانی مرد بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑتے ہیں کیونکہ پاکستان میں بے روزگاری، کم تنخواہیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور سروس سیکٹر میں زیادہ اجرت پیش کرتے ہیں۔ بیورو آف ایمیگریشن کے مطابق، ہر سال بڑی تعداد میں کارکن زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے بیرونِ ملک جاتے ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کو مالی مدد فراہم کریں، گھر بنائیں، بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں اور معیارِ زندگی بہتر بنائیں۔
لیکن بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی اپنے خاندانوں اور وطن کے لیے بڑی قربانیاں دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ والدین، شریکِ حیات اور بچوں کو برسوں کے لیے چھوڑ کر جاتے ہیں اور تنہائی، ثقافتی فرق اور مشکل کام یا رہائش کی صورتِ حال کا سامنا کرتے ہیں، خاص طور پر خلیجی ممالک میں۔ وہ اکثر طویل اوقات تک جسمانی طور پر محنت طلب یا کم اجرت والی ملازمتیں کرتے ہیں، جس میں ان کی ملازمت کو خاطر خواہ قانونی تحفظ بھی میسر نہیں ہوتا۔ ان مشکلات کے باوجود، وہ اپنے خاندانوں کے لیے مالی استحکام، بہتر تعلیم اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنے کے لیے یہ قربانیاں برداشت کرتے ہیں۔
جب پاکستانی کارکن بیرونِ ملک جاتے ہیں، تو پاکستان میں ان کے خاندان جذباتی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ بچے والد یا والدہ کی روزانہ رہنمائی کے بغیر بڑے ہوتے ہیں، جس سے ان کی جذباتی نشوونما اور نظم و ضبط متاثر ہو سکتا ہے۔ شریکِ حیات تنہائی اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کا سامنا کرتے ہیں، گھر، مالی معاملات اور سماجی دباؤ کو اکیلے سنبھالتے ہیں۔ بزرگ والدین براہِ راست دیکھ بھال اور مدد سے محروم رہ سکتے ہیں۔ بعض اوقات طویل جدائی، اعتماد کے مسائل اور غلط فہمیاں بھی خاندانی تعلقات پر اثر ڈال سکتی ہیں، حالانکہ ترسیلات زر مالی فوائد فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان میں متعدد مطالعات اور میڈیا رپورٹس ان بیویوں کے پیچیدہ تجربات کو اجاگر کرتی ہیں جن کے شوہر طویل عرصے تک بیرونِ ملک کام کرتے ہیں۔ ضلع گجرات اور لوئر دیر میں کی گئی تحقیق سے ظاہر ہوا کہ اگرچہ ترسیلات زر گھریلو آمدنی اور معیارِ زندگی میں اضافہ کرتی ہیں، مگر پیچھے رہ جانے والی بیویاں اکثر جذباتی تنہائی، نفسیاتی دباؤ، بچوں، مالیات اور سماجی ذمہ داریوں کا بوجھ اکیلے اٹھاتی ہیں۔
وہ اضطراب، ڈپریشن، چڑچڑاپن اور عدم تحفظ کا سامنا کرتی ہیں، ساتھ ہی فیصلہ سازی اور توسیعی خاندان کے دباؤ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ جرمن ٹی وی کی رپورٹ سمیت میڈیا رپورٹس میں برطانیہ میں بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی شوہروں کی بیویوں کی جدائی کی کہانیاں بتائی گئی ہیں، جیسے تنہائی، معاشرتی افواہیں، طلاق کے خوف، محدود حرکت اور ساس سسر کے ساتھ کشیدہ تعلقات۔ مجموعی طور پر، اگرچہ بیرونِ ملک ملازمت گھرانے کی مالی حالت کو بہتر بناتی ہے، مگر پیچھے رہ جانے والی بیویوں کو سماجی، نفسیاتی بوجھ، تنہائی، ذہنی دباؤ اور گھریلو ذمہ داریوں میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا اور آن لائن ملاقاتیں بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کے خاندانوں کے مسائل کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں، مگر یہ جسمانی موجودگی کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ باقاعدہ ویڈیو کالز، پیغامات اور آن لائن بات چیت والدین اور بچوں کو جذباتی طور پر جوڑے رکھتی ہیں، بات چیت کو برقرار رکھتی ہیں اور ایک دوسرے کی زندگیوں میں حصہ لینے میں مدد دیتی ہیں، جس سے تنہائی اور غلط فہمیوں میں کمی آتی ہے۔ یہ شریکِ حیات کو مالی اور گھریلو امور میں بہتر تعاون کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ تاہم، جذباتی تعلق، نظم و ضبط اور روزمرہ رہنمائی جیسے چیلنجز ابھی بھی مکمل طور پر آن لائن رابطے سے حل نہیں ہو سکتے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک مشہور واقعہ ملتا ہے جو شوہر کی طویل غیر حاضری کے بارے میں اسلامی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک رات گشت کر رہے تھے تو انہوں نے ایک خاتون کو یہ اشعار پڑھتے سنا کہ اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو یہ بستر ہل جاتا، یعنی شوہر کی جدائی میں وہ شدید تنگی محسوس کر رہی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ عورت کتنی مدت تک شوہر کے بغیر صبر کر سکتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: تقریباً چار ماہ۔
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ مجاہدین یا وہ مرد جو کسی مہم یا سرکاری ذمہ داری کے باعث گھر سے دور ہوں، انہیں چار ماہ سے زیادہ اپنی بیویوں سے دور نہ رکھا جائے، الا یہ کہ بیوی خود رضامند ہو۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے لشکروں کے لیے باقاعدہ نظام بنایا کہ انہیں مقررہ مدت کے بعد رخصت دی جائے تاکہ وہ اپنے اہلِ خانہ سے مل سکیں۔
یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں بیوی کے حقوق کا خاص خیال رکھا گیا ہے اور ازدواجی زندگی میں جسمانی و جذباتی ضروریات کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام خاندانی نظام کے استحکام اور عورت کے حقوق کے تحفظ کی ایک بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں (القرآن 2:187)، جو باہمی تحفظ، قربت اور دیکھ بھال کی علامت ہے، جس میں جذباتی، مالی اور جسمانی مدد شامل ہے۔ شوہر جو بیرونِ ملک کام کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ باقاعدہ رابطہ رکھے، مستقل مالی مدد (نفقہ) فراہم کرے، اور جذباتی تعلق برقرار رکھنے کے لیے وقتاً فوقتاً اپنی فیملی سے ملاقات کے لیے آتا رہے۔ اسے چاہیے کہ وہ شریکِ حیات کو اہم فیصلوں میں شامل کرے، اس کی ذمہ داریوں کا احترام کرے اور اس پر زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ اسلامی تعلیمات اور قانونی اصولوں کے تحت خاندان کے حقوق سے آگاہی اور ہنگامی حالات کے لیے واضح منصوبہ بندی گھرانے کی بھلائی اور استحکام کو طویل جدائی کے دوران محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)، اور یہ بھی کہ ’’باپ اپنے بیٹے کو بہترین ادب (تربیت) سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں دے سکتا‘‘ (ترمذی)۔ ان تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کی صحیح تربیت، دینی و اخلاقی پرورش اور ان کے ساتھ مناسب قربت ضروری ہے۔
قرآنِ مجید میں دعا سکھائی گئی: (ترجمہ) اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ (الفرقان: 74) اسی طرح فرمایا: (مفہوم) ’’مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔‘‘ (الکہف: 46) بیوی کا شوہر سے دور رہنا اور اولاد کا باپ کے سائے سے محروم ہونا بھی ایک قسم کی غربت ہے۔ یہ صرف مالی نہیں بلکہ جذباتی اور معاشرتی محرومی بھی ہے۔ اگر ممکن ہو تو انسان کو اپنے ہی ملک میں روزگار کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ گھرانہ ساتھ رہے، بچوں کی تربیت بہتر ہو اور خاندان میں محبت و سکون قائم رہے۔ اور ماں باپ بھی اپنی اولاد کو اپنے سامنے دیکھ کر آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل کر سکیں۔ اولاد کی موجودگی نہ صرف خوشی اور سکون کا باعث بنتی ہے بلکہ والدین کے دل کو اطمینان بھی دیتی ہے، جو کسی بھی دولت سے بڑھ کر نعمت ہے۔