اسلام آباد:
وفاقی حکومت، آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کیلیے بجٹ سازی پر مذاکرات شروع ہوگئے۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کی ذمے داری نائب وزیراعظم اور سابق وزیر خزانہ اسحق ڈارکے حوالے کردی۔
وزیر اعظم نے اسحق ڈارکی سربراہی میںاعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دیدی جس میں وزیرخزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اقتصادی اموراحد چیمہ و دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
کمیٹی ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے تیارکردہ تجاویزکاجائزہ لے کرقابلِ عمل سفارشات پیش کرے گی۔دوسری جانب انفورسمنٹ اقدامات کیلیے الگ کمیٹی بھی قائم کردی گئی ،جس کی سربراہی احد چیمہ کرینگے۔
کمیٹی نے اپنی پہلی میٹنگ میں ایف بی آرکو ہدایت کی کہ ٹیکس چوری روکنے، انڈررپورٹنگ ختم کرنے اورجعلی ٹیکس گوشواروں کی نشاندہی کیلیے جدید ڈیجیٹل اور اے آئی نظام متعارف کرائے جائیں۔
حکومت آئندہ مالی سال میں تقریباً 15.3کھرب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرناچاہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ بجٹ میں تقریباً 215 سے 230 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کرنے اورکچھ شعبوں کوریلیف دینے پرغورکررہی ہے۔
آئی ایم ایف معاہدے کے تحت حکومت کو مجموعی طور پر 430 ارب روپے کے مالیاتی اقدامات کرناہونگے،جن میں 215 ارب روپے نئے ٹیکس،جبکہ مزید 215 ارب روپے انفورسمنٹ اور ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے اقدامات سے حاصل کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق جائزہ مشن نے ایواپیٹرووا کی زیر قیادت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور معاشی ٹیم سے ملاقات کی، اس موقع پر گورنرسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر اعلیٰ حکام موجود تھے، ملاقات کے دوران بجٹ کی تیاریوں اور معاشی صورتحال، اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد 20 مئی تک پاکستان میں قیام کریگا اور بجٹ اہداف، ٹیکس محاصل، مالی اصلاحات،انرجی سیکٹر ریفارمز اور نجکاری میں پیش رفت کا جائزہ لیگا۔