حسیب وقاص شوگر ملز کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت

وفاقی آئینی عدالت نے عبداللہ شوگر ملز کی پراپرٹیز قرقی نہ کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا


ویب ڈیسک May 14, 2026
فوٹو: فائل

وفاقی آئینی عدالت میں حسیب وقاص شوگر ملز کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت ہوئی، جس کی سربراہی جسٹس حسن اظہر رضوی نے تین رکنی بینچ کے ساتھ کی۔

سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت نے عبداللہ شوگر ملز کی پراپرٹیز قرقی نہ کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا، جبکہ عدالت نے شوگر ملز کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے شوگر ملز کو اپنی جائیدادیں تاحکم ثانی فروخت کرنے سے بھی روک دیا۔

کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ عبداللہ شوگر ملز اور حسیب وقاص شوگر ملز نے کسانوں کو ادائیگیاں نہیں کیں اور نیشنل بینک سے بھی رقوم حاصل کی ہیں۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ اس سب کا تعلق دور تک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی تو ہمت ہے ویسے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ کین کمشنر نے عدم ادائیگی پر حسیب وقاص شوگر ملز کے ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈرز کی پراپرٹیز قرقی کا حکم دیا تھا، جبکہ عبداللہ شوگر ملز نے اس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹیز قرقی کا حکم کالعدم قرار دیا تھا، جس کے خلاف پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد یہ کیس ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔