وزیر داخلہ محسن نقوی کی بنوں میں شہید پولیس اہلکاروں کی ماؤں کے بلند حوصلے کے معترف

وزیر داخلہ کا پیشاور پولیس ہیڈکوارٹر کا دورہ، بنوں میں شہید 15 اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات، تعزیت کا اظہار


ویب ڈیسک May 14, 2026
فوٹو اسکرین گریپ

وزیرداخلہ محسن نقوی نے بنوں میں شہید ہونے والے 15 پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور شہید اہلکاروں کی ماؤں کے بلند حوصلے سے متاثر ہوئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا پشاور میں پولیس ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور بنوں میں شہید ہونے والے 15 پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے ملاقات کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جبکہ شہیدا کی ماؤں کو دلاسہ دیتے ہوئے دلی ہمددری اور تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ آپ جیسی باہمت ماؤں کا حوصلہ دیکھ کر ہمارا عزم مزید مضبوط ہوا ہے، آپ کے شیر دل بیٹوں نے جوانمردی کی اعلی مثال قائم کر کے شہادت کا عظیم رتبہ پایا۔

بعد ازاں وزیرداخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کا اجلاس ہوا جس میں صوبے کی صورت حال سے متعلق خصوصی بریفنگ دی گئی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں وفاقی و صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور رابطے بہتر بنانے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔

وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سی ٹی ڈی کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا۔

زیرداخلہ نے کہا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا نے خوارجیوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی ہیں، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کی استعدادکار بڑھانے کے لئے وفاقی حکومت پورا تعاون کرے گی۔

وزیرداخلہ محسن نقوی کی یادگار شہداء پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔

بعد ازاں محسن نقوی نے کے پی سیف سٹیز پراجیکٹ کا دورہ کیا اور اینٹی گریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کا معائنہ جبکہ جدید کیمرا ٹیکنالوجی کے ذریعے سرویلنس کے نظام کا مشاہدہ کیا۔

وزیرداخلہ محسن نقوی نے کیمروں سے مانیٹرنگ سسٹم کا جائزہ لیا جبکہ آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے سیف سٹی پراجیکٹ اور سی ٹی ڈی کے بارے بریفنگ دی۔

اس کے علاوہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر چیف سیکریٹری آئی، جی ایف سی کے پی کے نارتھ ، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔