برطانیہ میں حکمراں جماعت لیبر پارٹی کے اہم رہنما اور وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ نے اپنے ہی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ویس اسٹریٹنگ نے وزارت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت کی بلدیاتی انتخابات میں ناکامی کی بڑی وجہ وزیراعظم کی غیر مقبول قیادت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس شکست کے بعد اب واضح ہو چکا ہے کہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر اگلے عام انتخابات میں حکمراں جماعت لیبر پارٹی کی قیادت نہیں کرسکیں گے۔
اسی دوران حکمراں جماعت کے ایک اور رکن پارلیمنٹ جوش سیمسنز نے بھی اپنی نشست چھوڑنے کا اعلان کیا تاکہ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہام دوبارہ پارلیمنٹ میں آ کر ممکنہ طور پر پارٹی قیادت کے لیے میدان میں اتر سکیں۔
حکمراں جماعت کے کتنے ارکان مستعفی ہوچکے ہیں؟
اب تک لیبر حکومت کے 4 جونیئر وزرا استعفیٰ دے چکے ہیں جن میں سابق سیف گارڈنگ وزیر بھی شامل ہیں جبکہ 80 سے زائد لیبر ارکان پارلیمنٹ وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے استعفیٰ یا اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
وزیراعظم اسٹارمر کا ردعمل
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ویز اسٹریٹنگ کے استعفے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیشنل ہیلتھ سروس میں اصلاحات کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
کیئر اسٹارمر کے ترجمان نے واضح کیا کہ وزیراعظم مستعفی نہیں ہو رہے اور ان کی پوری توجہ حکومت چلانے اور عوامی مسائل حل کرنے پر ہیں۔
واضح رہے کہ اب بھی وزیراعظم کو کابینہ کے بعض سینئر وزرا اور 100 کے قریب ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے جنھوں نے پارٹی رہنماؤں کو خبردار کیا کہ اندرونی لڑائی ملک کو سیاسی اور معاشی بحران میں دھکیل سکتی ہے۔