آبنائے ہرمز سے بیجنگ تک

چینی صدر شی جن پنگ نے یہ کہہ کر کہ ’’چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے‘‘


ایڈیٹوریل May 15, 2026

امریکا، چین اور ایران کے گرد گھومتی حالیہ سفارتی کشمکش نے عالمی سیاست کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں طاقت، تجارت، توانائی اور عسکری حکمت عملی ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو چکی ہیں کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی بے چینی پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات بظاہر دو بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش دکھائی دیتی ہے، مگر اس ملاقات کے پس منظر میں خلیج کی بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران کے خلاف امریکی دباؤ، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورت حال اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملاقات کو محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسے بدلتے ہوئے عالمی توازن کی ایک اہم کڑی سمجھنا ہوگا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے یہ کہہ کر کہ ’’چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے‘‘ دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ عالمی معیشت اب اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں مکمل تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی پر بالادستی کی کشمکش، بحرالکاہل میں عسکری موجودگی اور تائیوان کا تنازع اگرچہ دونوں ممالک کو مقابل قوتوں میں تبدیل کر چکا ہے، تاہم اس کے باوجود دنیا کی دو بڑی معیشتیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتیں۔ امریکی منڈیوں کو چینی مصنوعات درکار ہیں جب کہ چین کو اپنی صنعتی پیداوار کے لیے امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید اختلافات کے باوجود دونوں طاقتیں مکمل محاذ آرائی سے گریز کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

بیجنگ ملاقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ چین اب محض معاشی قوت نہیں رہا بلکہ وہ عالمی سفارت کاری میں بھی ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس امر کی غماز ہے کہ بیجنگ اپنی اقتصادی طاقت کو سیاسی اثرورسوخ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین نے پہلے ہی ثالثی کا کردار ادا کیا تھا اور اب خلیجی بحران میں بھی اس کی سرگرمی نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی جانب سے پاکستان کو ثالثی کی کوششیں تیز کرنے کا مشورہ اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کے ذریعے چین خود کو ایک ذمے دار عالمی قوت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

خلیج کی موجودہ کشیدگی کا مرکز ایران اور امریکا کے درمیان وہ تنازع ہے جو کئی برسوں سے مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ تہران کی جانب سے دی ہیگ کی بین الاقوامی ثالثی عدالت میں امریکا کے خلاف مقدمہ دائر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اب عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر متحرک حکمت ِ عملی اختیار کر رہا ہے۔ ایران یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ صرف مزاحمت کی سیاست نہیں کر رہا بلکہ عالمی قانونی اداروں سے بھی رجوع کر کے اپنے مؤقف کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی ادارے بڑی طاقتوں کے خلاف واقعی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں؟ ماضی کا تجربہ اس حوالے سے زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ ایران کی تشویش کی سب سے بڑی وجہ امریکی دباؤ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ ایرانی قیادت بار بار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کسی بڑے عسکری اقدام کی تیاری کر رہے ہیں۔

اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے براہِ راست جنگ کے آثار واضح نہیں، تاہم خطے میں امریکی فوجی موجودگی، پابندیوں کا تسلسل اور اسرائیلی مؤقف نے تہران کے خدشات کو تقویت دی ہے۔ ایرانی حکام کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی رسد کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے، اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے یا جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو صرف خلیجی ممالک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس کے اثرات محسوس کرے گی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی، ترسیل کے اخراجات میں اضافہ اور صنعتی پیداوار پر دباؤ ایسے نتائج ہیں جو عالمی اقتصادی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا، چین، یورپ اور دیگر بڑی معیشتیں اس معاملے میں غیر معمولی دلچسپی لے رہی ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان کہ چین ایران پر دباؤ ڈالے، دراصل واشنگٹن کی ایک اہم سفارتی مجبوری کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکا جانتا ہے کہ ایران پر مغربی دباؤ محدود اثر رکھتا ہے کیونکہ تہران نے گزشتہ برسوں میں چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔

چین ایران کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل خریدنے والے اہم ممالک میں شامل ہے۔ اس لیے واشنگٹن سمجھتا ہے کہ اگر کوئی ملک تہران پر مؤثر اثرانداز ہو سکتا ہے تو وہ چین ہے۔ دوسری طرف چین اس صورتِ حال کو اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے۔ وہ ایک طرف امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے گا اور دوسری جانب ایران کے ساتھ اپنے اسٹرٹیجک تعلقات بھی برقرار رکھے گا۔ یہی چینی سفارت کاری کی اصل مہارت ہے کہ وہ تصادم سے گریز کرتے ہوئے ہر بحران میں اپنے مفادات کا دائرہ وسیع کرتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ تمام صورتِ حال کئی حوالوں سے اہم ہے۔ ایک طرف پاکستان چین کا قریبی اتحادی ہے، دوسری طرف امریکا کے ساتھ بھی تعلقات اچھے ہیں۔ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں اور پاکستان کی معیشت ترسیلاتِ زر کے ذریعے ان ممالک سے گہری وابستگی رکھتی ہے، اگر خطے میں جنگ یا شدید بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مسلسل سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پاکستان کے لیے یہ کردار بظاہر مثبت دکھائی دیتا ہے مگر اس کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ پاکستان کو نہایت محتاط اور متوازن حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔اس بحران کا ایک اہم پہلو امریکی داخلی سیاست بھی ہے۔ سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی پر تنقید دراصل امریکی سیاسی تقسیم کو ظاہر کرتی ہے۔ اوباما نے جس جوہری معاہدے کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا تھا، ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی اسے کمزور معاہدہ کہہ کر مسترد کر دیا۔ اوباما کا مؤقف یہ ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا گیا تھا اور خطے کو جنگ سے بچا لیا گیا تھا، جب کہ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں نے کشیدگی میں اضافہ کیا۔

ادھر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا استدلال ہے کہ اوباما دور کی نرمی نے ایران کو مالی اور عسکری طور پر مضبوط کیا۔حقیقت شاید ان دونوں مؤقفوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ اوباما معاہدے نے وقتی طور پر کشیدگی ضرور کم کی تھی، مگر اس سے ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی عدم اعتماد ختم نہیں ہوا۔ اسی طرح ٹرمپ کی زیادہ دباؤ والی پالیسی بھی ایران کو جھکانے میں مکمل کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس تمام صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو محض پابندیوں، دھمکیوں یا عسکری طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تاریخ، مذہب، جغرافیہ، علاقائی سیاست اور عالمی مفادات اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ کسی ایک فریق کی مکمل فتح ممکن نہیں۔اس بحران میں اسرائیل کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل مسلسل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔ تل ابیب کی خواہش ہے کہ امریکا ایران کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اپنائے۔ تاہم امریکا کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ بیک وقت یوکرین، بحرالکاہل اور مشرقِ وسطیٰ جیسے متعدد محاذوں پر غیر محدود تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن ایک طرف سخت بیانات دیتا ہے تو دوسری طرف مذاکرات کے دروازے بھی بند نہیں کرتا۔

 عالمی سطح پر دیکھا جائے تو موجودہ بحران دراصل اس نئی دنیا کی علامت ہے جہاں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا تھا، مگر اب چین کی معاشی قوت، روس کی عسکری مزاحمت اور علاقائی طاقتوں کی خودمختار پالیسیوں نے عالمی نظام کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایران بھی اسی بدلتے ہوئے عالمی ماحول سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تہران جانتا ہے کہ چین اور روس کی موجودگی میں امریکا کے لیے ماضی جیسی یکطرفہ کارروائی آسان نہیں رہی۔ آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ایسی دانشمندانہ قیادت کی ہے جو طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی مفادات کے اصولوں کو ترجیح دے، اگر امریکا اور چین واقعی مقابلے کے بجائے شراکت داری کی طرف بڑھتے ہیں، اگر ایران اور مغرب مذاکرات کی راہ اختیار کرتے ہیں، اور اگر علاقائی طاقتیں تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اپناتی ہیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران سے بچ سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر آبنائے ہرمز سے اٹھنے والی چنگاری عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن کو ایسی آگ میں دھکیل سکتی ہے جس کے اثرات سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔