سماجی مسائل کے لیے دکھاوے کا عزم

غیر سیاسی وزیر خزانہ حکومت کو جو تجاویز دیتے ہیں ،اس کے اثرات پر یہ سیاسی حکومت بالکل غور نہیں کرتی اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر دیتی ہے


[email protected]

وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت اہم سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے اور ہر قسم کے بحران میں انسانی وقار و تحفظ کو یقینی بنانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت اہم سماجی مسائل کو جتنی اہمیت دیتی ہے ،اس کا ثبوت حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں فی لیٹر 13 روپے 91 پیسے اضافہ کرکے دے بھی دیا جب کہ حکومت کی عائد کردہ اس لیوی کا پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ماضی میں جب بھی عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئیں اس کا فائدہ حکومت نے عوام کو کبھی نہیں دیا اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھا کر عوام کو عالمی فراہم کردہ سہولت سے محروم رکھا۔

امریکا و ایران جنگ کے دوران دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت ضرور بڑھی لیکن دنیا میں یہ مصنوعات اتنی مہنگی نہیں ہوئیں جتنی پاکستان میں ہوئیں اور مزید اضافہ لیوی بڑھا کر کیا جا رہا ہے کیونکہ پٹرول و ڈیزل کو بجلی و گیس کی طرح کمائی کا اہم ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور دکھاوے کے بیانات جاری کر دیے جاتے ہیں کہ حکومت اہم سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے مگر ہو کچھ اور رہا ہے۔

پاکستان کے عوام کا اہم سماجی مسئلہ مہنگائی و بے روزگاری ہے جس میں کمی لانے پر کوئی توجہ نہیں اور توجہ صرف مہنگائی و بے روزگاری بڑھانے پر مرکوز ہے۔ پہلے سے مہنگے ڈیزل و پٹرول پر پھر 15 روپے کا بڑا اضافہ کرکے ایسے موقع پر مہنگائی مزید بڑھائی گئی ہے جب عید قرباں سر پر ہے اور چھوٹے علاقوں سے گاڑیاں کرکے جانور بڑے شہروں میں لائے جاتے ہیں جو پہلے سے ہی بہت مہنگے ہیں اور 15روپے فی لیٹر اضافہ کر کے جانوروں کے نرخ مزید بڑھانے کا موقعہ جانوروں کے تاجروں کو فراہم کر دیا گیا ہے۔

 عوام پر شب خون مارا گیا جب کہ آنے والی عیدالاضحی تک اس ظلم سے گریز کیا جا سکتا تھا مگر عوام پر یہ مزید ظلم ضروری سمجھا گیا۔ قرضوں کی عادی حکومتوں نے شروع دن سے آئی ایم ایف کی شرائط کو بھی اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ آئی ایم ایف کو اپنے قرضوں کی فکر رہتی ہے پاکستان کے عوام کی نہیں۔ اپنے عوام کی فکر حکومت کو ہونی چاہیے مگر ہر حکومت نے عوام دشمنی کے ریکارڈ توڑے اور عوام کے مسائل کا کوئی خیال نہیں رکھا۔ آئی ایم ایف کی شرط پٹرولیم مصنوعات پر 80 روپے لیوی لگانے کی تھی اس کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا اور اب پٹرولیم مصنوعات پر تقریباً 118 روپے لیوی وصول کی جا رہی ہے۔

 عوام دوست حکومتیں ہنگامی حالات میں اپنے عوام کو سہولیات فراہم کرتی ہیں مگر حکومت صرف ٹیکسوں پر اپنے اخراجات پورے کر رہی ہے اور اپنے شاہانہ اخراجات بالکل کم نہیں کر رہی بلکہ عوام کو مسلسل زیربار کرتی آ رہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ پچاس ہزار روپے سے زیادہ رقم بینک سے نکالنے پر ٹیکس لگایا گیا تھا تاکہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو مگر لگتا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت کی آمدن اور اخراجات میں فرق کم نہیں ہو رہا اور اب ایف بی آر سے مقررہ اہداف پورے کرانے میں ناکام رہنے کے بعد صرف عوام کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے ۔عوام پر ٹیکس کی رقم بڑھانے اور پہلے سے مہنگی بجلی اور سوئی گیس کے بلوں میں فکسڈ چارجز عائد کرکے عوام کا جینا عذاب کرنے کے سوا کسی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ترقی کا عمل معکوس ہوتا جا رہا ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ٹیکس بڑھائے اور مہنگائی کی جا رہی ہے۔ 

 غیر سیاسی وزیر خزانہ حکومت کو جو تجاویز دیتے ہیں ،اس کے اثرات پر یہ سیاسی حکومت بالکل غور نہیں کرتی اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر دیتی ہے۔ وزیر خزانہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں اپریل میں گیارہ فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک وزیر نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کریں گے اور حالیہ اضافہ عالمی قیمتوں کے مطابق کیا گیا ہے جو سراسر غلط ہے کیونکہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں عالمی نرخ کے برعکس ڈبل اضافہ اور لیوی بڑھا کر صرف اپنی آمدنی میں اضافہ کرکے پہلے سے پریشان عوام کو مزید عذاب میں مبتلا کر دیا ہے جس پر عوام سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کرکے حکومت پر غصہ اتار رہے ہیں۔

ایک سیاسی حکومت مہنگائی کر رہی ہے اور دوسری جانب یہ دعوی کر رہی ہے کہ وہ ملک کو ترقی دے دہی ہے جس کا حکومت دن رات خود کریڈٹ لے رہی ہے جو اس کا حق بنتا ہی نہیں ہے۔

حکومت کے نزدیک سماجی مسائل کا حل عوام پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگا کر مہنگائی و بے روزگاری بڑھانا رہ گیا ہے۔ کفایت شعاری کے حکومتی دکھاوے کے اقدامات سے پٹرول منگوانے کی لاگت ایک ارب روپے بڑھی ہے خود حکمرانوں اور وزراء کا سرکاری پروٹوکول پہلے کی طرح برقرار ہے اور دکھاوے کے نمائشی اقدامات سے بجلی و پٹرول کے سرکاری استعمال میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سرکاری فضول اخراجات میں کمی اور اپنے شاہانہ انداز بدلنے کی بجائے موجودہ حکومت کا سارا زور عوام کے مسائل کم کرنے پر نہیں بلکہ صرف اور صرف مسائل بڑھانے پر ہے۔